ٹیلی گرام نیوز چینل کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران نام نہاد ’فیول ٹیبز‘ کی فروخت میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے
یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں نے روس کی آئل ریفائنریوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں ایندھن کے ذخائر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کہیں پیٹرول کی فروخت پر پابندیاں لگ رہی ہیں، تو کہیں طلب کم کرنے کے لیے قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس نئی صورتِ حال میں پریشان حال روسی ڈرائیور اب ایسے ’جادوئی نسخوں‘ کی طرف مائل ہو رہے ہیں جن سے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ گاڑی کی فیول کی کھپت کم کر دیتے ہیں۔
مقبول ٹیلی گرام نیوز چینل بازا کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران نام نہاد ’فیول ٹیبز‘ کی فروخت میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی ان متنازع مصنوعات کا چرچا تیزی سے بڑھا ہے۔ بُقا اور بیأایکو جیسے برانڈز کے تحت فروخت ہونے والی یہ گولیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ انجن میں ایندھن کے جلنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور مستحکم بناتی ہیں، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی کھپت کم ہو جاتی ہے۔
یہ گولیاں تقریباً ہر پیٹرول پمپ پر 50 سے 80 روبل (تقریباً 70 سینٹ سے 1.1 ڈالر) میں دستیاب ہیں۔ کمپنیوں کے مطابق ایک گولی 200 لیٹر تک پیٹرول کے لیے کافی ہوتی ہے جبکہ بعض برانڈز تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کم معیار کے اے آئی-92 پیٹرول کو اے آئی-95 کے برابر بنا سکتی ہے۔
تاہم، یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ یہ گولیاں حقیقت میں کام کیسے کرتی ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان میں شامل اضافی کیمیکل ایندھن میں پہلے سے موجود ایڈیٹیوز کے ساتھ ردِعمل پیدا کر سکتے ہیں، جس سے فیول انجیکٹرز یا انجن کے دیگر حصوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ گولیاں دراصل ایک ’انجن پلیسبو‘ ہیں یعنی ایسا نفسیاتی دھوکا جو صرف ایندھن کی قلت سے پریشان گاڑی مالکان کی جیبیں ہلکی کرنے کے لیے بیچا جا رہا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.