Native World News

بل تو آرہے ہیں لیکن سہولیات نہیں آرہی ہیں

بل تو آرہے ہیں لیکن سہولیات نہیں آرہی ہیں

سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک مزاحیہ ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک مزاحیہ ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویڈیو میں بیرون ملک میں مقیم ایک دوست اپنے دوسرے دوست سے کہتا ہے کہ وہ پاکستان آنے کا سوچ رہا ہے اور اس سلسلے میں اپنے پاکستان میں مقیم دوست سے تفصیلاً بات کرنا چاہتا ہے۔

دوست کہتا ہے کہ ابھی وہ بات نہیں کرسکتا کیونکہ وہ گیس کا بل بھرنے جارہا ہے تو بیرون ملک مقیم دوست کہتا ہے کہ ٹھیک ہے پھر آکر بات کر لینا، وہ کہتا ہے کہ نہیں، آکر مجھے سلنڈر بھروانے جانا ہے، دوست پوچھتا ہے وہ کیوں؟ تو اس پر پاکستان میں مقیم دوست جواب دیتا ہے کہ وہ اس لیے کہ گیس نہیں آرہی ہے۔ اس پر دوست کہتا ہے کہ اگر گیس نہیں آرہی تو بل کس چیز کا جمع کروا رہے ہوں؟ اس پر دوست کہتا ہے کہ بل تو آرہا ہے پر گیس نہیں آرہی ہے۔

اس طرح وہ تمام سہولیات یا ضروریات زندگی کے بل بھرنے کی بات کرتا ہے اور بعد میں اسی ضرورت کے متبادل انتظام کی بات کرتا ہے۔ جیسے بجلی کے بل کے بعد جنریٹر کے لیے پیٹرول، پانی کے بل کے بعد ٹینکر کا انتظام وغیرہ وغیرہ۔ اسی ویڈیو نے کالم لکھنے کی تحریک دی ہے۔

من حیث القوم ہمیں سوچنے کی عادت نہیں اور سوائے دعا کے ہمیں کچھ کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔ دعا کسی بھی خواہش یا ضرورت کو پوری کرنے کے لیے لازمی جزو ہے لیکن ’’عمل‘‘ کے بعد۔ ہم نے عمل کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا ہے اور صرف دعا پر تکیہ کیے ہوئے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ میں قوم کو سوچنے کے لیے ایک نقطہ پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

حکومت کو عوام سے کچھ وصول کرنا ہوں تو ہمارے در تک آجاتی ہے لیکن جب سہولت دینے کی بات ہوں تو ہمیں اپنے در پر بلاتی ہے تاکہ لین دین کیا جاسکے اور اس کے بعد بھی سہولت کا ملنا ضروری نہیں ہے۔ آج کل لوگوں کو گھر پر برقی چالان مل رہے ہیں لیکن نلوں میں پانی نہیں آسکتا ،اگر پانی چاہیے تو ٹینکر منگوانا ہوگا، جو بجلی بن بھی نہیں رہی ،اس کے پیسے کپیسیٹی چارجز کے نام پر دینے ہے۔ آئی پی پی شجر ممنوعہ ہے ،اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ ذرا نہیں پورا سوچیے۔

میرا ایک بچپن کا دوست امریکا میں رہتا ہے۔ اس نے شہری سہولیات کے ایک ادارے سے ایک سہولت کے لیے درخواست دی۔ درخواست برقی ترسیل کے ذریعے دی گئی کیونکہ ادارے کا دفتر شہر سے کوئی چالیس یا پچاس میل کے فاصلے پر تھا۔ اتفاقاً میرے دوست کا شہر سے باہر جانے کا اتفاق ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ جاتے ہوئے اس ادارے کے دفتر سے بھی ہوتا چلا جائے گا اور اپنے درخواست پر پیش رفت بھی معلوم کرلے گا۔ جب وہ اس ادارے کے دفتر پہنچا تو سب سے پہلے پورا عملہ پریشان ہوگیا کہ ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ اس شخص کو ادارے کے دفتر آنا پڑا۔

اس کی فوراً کسی شخص سے ملاقات کروائی گئی اور بار بار وہ شخص یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیا کسی کے کہنے یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے ادارے کے دفتر آنے پر مجبور ہوا ہے؟ میرے دوست نے انھیں بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے میں چونکہ شہر سے باہر جارہا تھا تو میں نے سوچا کہ آپ لوگوں سے مل لوں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ہم  نہیں چاہتے کہ کسی شہری کو یہ زحمت ہوں۔ ہمارے دیے ہوئے وقت پر آپ کو سہولت مل جائے گی اور اگر آپ کو اشد ضرورت ہوں تو آپ ایک برقی ترسیل میں ہی اپنی مجبوری بیان کر دیجیے، ہم جلد از جلد یہ سہولت آپ کو پہنچا دیں گے۔ اب ہمارے ملک میں تو آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم سے تو ایسی خدمات کا وعدہ جنت میں کیا گیا ہے ،اس مملکت خداداد میں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔

ہماری قوم کے لیے تو یہ لطیفہ نما واقعہ بہت مشہور ہے کہ قوم یہ سوال نہیں کرتی کہ اس کو چھتر کیوں مارے جارہے ہیں وہ تو بس یہ کہتی ہے کہ چھتر مارنے والے بڑھا دیے جائیں تاکہ ہم شام کو جلدی گھر پہنچ جائیں۔ اب تو نہ صرف چھتر مارنے والے بیشمار ہیں بلکہ چھتر بھی اتنا بڑا اور موٹا ہوگیا ہے ،قوم کا دم گھٹ رہا ہے اور انھیں موت بھی نجات محسوس ہورہی ہے اسی لیے آج کل اس معاشرے میں ہر شخص چھوٹی سے چھوٹی بات پر مرنے مارنے پر تلا بیٹھا ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ مایوسی، ناامیدی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں اور انھیں زندگی جو ایک نعمت ہے اس کے بجائے موت میں راحت نظر آتی ہے۔

آخر میں ایک سچا واقعہ اور اختتام، ویسے اگر قوم سمجھنا چاہے تو اس میں ان کے مسئلے کا حل بھی ہے اگر وہ دیکھنا چاہے۔ میرا بیٹا اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے جب ایک ادارے میں تھا تو وہ تربیت کے اس دور میں اتنے کم پیسے دیتے تھے کہ سارے ہی بچے آنے جانے کے لیے بائیکیا استعمال کرتے تھے جب کے ادارے کے شراکت دار شاندار گاڑی استعمال کرتے تھے۔ میرا بیٹا اس پر بہت کڑھتا تھا اور وہ کبھی اس بات کا اظہار مجھ سے بھی کیا کرتا تھا۔ جب ایک دن اس نے اظہار کیا تو میں نے اس سے کہا کہ کچھ لوگوں کے بڑی گ گاڑی چلانے کے لیے ضروری ہے کہ بہت سے لوگ بائیکیا پر ہوں۔ آپ چاہے تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے اور سمجھیں تو اس میں ہمارے سارے مسائل اور ان کا حل بھی پوشیدہ ہیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2818028/bill-to-aa-rahe-hain-lekin-sahuliyat-nahi-aa-rahi-hain-2818028

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.