Native World News

چاول پکانے سے پہلے کتنی بار دھونا چاہیے؟ نئی تحقیق نے دلچسپ حقائق سامنے رکھ دیے

چاول پکانے سے پہلے کتنی بار دھونا چاہیے؟ نئی تحقیق نے دلچسپ حقائق سامنے رکھ دیے

چاول دھونے کے عمل کے دوران صرف گرد و غبار ہی نہیں بلکہ کچھ اہم غذائی اجزا بھی ضائع ہو سکتے ہیں

چاول پکانے سے پہلے انہیں پانی سے دھونا دنیا بھر کے گھروں میں ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے۔ اکثر لوگ چاول اس وقت تک دھوتے رہتے ہیں جب تک پانی بالکل صاف نہ ہو جائے، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس عمل کے دوران صرف گرد و غبار ہی نہیں بلکہ کچھ اہم غذائی اجزا بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چاول دھونے پر جو سفید اور دھندلا پانی نکلتا ہے، اسے عموماً مٹی یا آلودگی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس میں نشاستے کے ساتھ کچھ پانی میں حل ہونے والے معدنی اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں آئرن، زنک، تانبا اور وینیڈیم جیسے معدنیات شامل ہیں جو جسم کو کم مقدار میں ہی سہی، مگر درکار ہوتے ہیں۔ ہر بار دھونے سے ان اجزا کی مقدار میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔

تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام خوراک میں چاول ان معدنیات کا بڑا ذریعہ نہیں ہوتے، اس لیے چاول دھونے سے غذائیت پر کوئی نمایاں منفی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس عمل کو غذائی نقصان کے بجائے صفائی اور احتیاط کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق چاول دھونے کی ایک اہم وجہ آرسینک نامی عنصر کی مقدار کم کرنا ہے۔ آرسینک ایک قدرتی عنصر ہے جو مٹی اور پانی کے ذریعے چاول کے پودوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین غذائی سائنس کے مطابق چاول دھونے سے دانوں کی سطح پر موجود آرسینک کی کچھ مقدار کم کی جا سکتی ہے، اگرچہ یہ طریقہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔

جدید دور میں ایک اور تشویش مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی بھی ہے۔ 2021 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چاول پکانے سے پہلے دھونے سے مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار تقریباً 20 سے 40 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سائنس دان اب بھی انسانی صحت پر مائیکرو پلاسٹکس کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن ابتدائی شواہد کے مطابق ان کی موجودگی کو کم کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل سپر مارکیٹس میں فروخت ہونے والے چاول جدید صنعتی مراحل سے گزر کر صارفین تک پہنچتے ہیں۔ صفائی، خشک کرنے، چھلکا اتارنے، پالش کرنے اور پیکنگ جیسے مراحل کے باعث یہ چاول پہلے ہی کافی حد تک صاف اور محفوظ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بار بار دھونا لازمی نہیں۔

ماہرین کا مجموعی مؤقف یہ ہے کہ چاول دھونا ایک مفید احتیاطی عمل ہو سکتا ہے، لیکن انہیں اس حد تک دھونا کہ پانی مکمل طور پر شفاف ہو جائے، ضروری نہیں۔ ایک یا دو مرتبہ ہلکا سا دھونا کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس طریقے سے ممکنہ آلودگی اور مائیکرو پلاسٹکس میں کمی بھی آ جاتی ہے اور غذائی اجزا کا غیر ضروری نقصان بھی نہیں ہوتا۔

غذائی ماہرین کے مطابق اعتدال ہی بہترین راستہ ہے۔ چاولوں کو ایک یا دو بار دھو لینا صفائی اور صحت دونوں کے حوالے سے مناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ دھونے کا کوئی خاص اضافی فائدہ ثابت نہیں ہوا۔

Source: https://www.express.pk/story/2817833/how-many-times-should-rice-be-washed-before-cooking-2817833

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.