Native World News

بجلی  و گیس کی قیمتوں میں تواتر سے اضافہ کرنے سمیت آئی ایم ایف کی 11 سخت شرائط

بجلی  و گیس کی قیمتوں میں تواتر سے اضافہ کرنے سمیت آئی ایم ایف کی 11 سخت شرائط

عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس ہدف کے لیے 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز بھی دی ہے

عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے لیے 11 نئی کڑی شرائط عائد کر دی ہیں جن میں توانائی کی قیمتوں میں تسلسل سے اضافہ اور ٹیکس اہداف میں بھاری اضافہ شامل ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1727 ارب روپے کی خطیر رقم وصول کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں عالمی مالیاتی فنڈ نے ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 267 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کے لیے 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔

ان نئے ٹیکس اقدامات میں سے 215 ارب روپے کے ٹیکس نئے سرے سے لگائے جائیں گے جبکہ 115 ارب روپے ٹیکس انفورسمنٹ کے ذریعے جمع کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے نیب کی خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدگی سے اضافے کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی شرط بھی رکھی ہے۔

آئی ایم ایف کی دیگر اہم شرائط میں وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری، انسدادِ بدعنوانی اور سرکاری خریداریوں کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

اسی طرح ٹیکس ریونیو انتظامیہ میں بہتری لانے، کفالت پروگرام کو جاری رکھنے، کرنسی ایکسچینج کی خودمختاری کے لیے روڈ میپ تیار کرنے اور ریگولیٹری شفافیت کو بڑھانے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

مذکورہ شرائط کے تحت پیپرا رولز میں ترامیم، خصوصی اکنامک زونز کو 2035 تک ملنے والی تمام مراعات کا خاتمہ اور وفاقی سطح پر کاروباری ریگولیشن کے لیے پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کا قیام بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے یہ اقدامات معاشی استحکام کی بحالی اور جاری پروگرام کے تحت درکار اہداف کے حصول کے لیے ضروری سمجھے جا رہے ہیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2813301/imf-imposes-11-strict-conditions-including-frequent-increases-in-electricity-and-gas-prices-2813301/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.