بعض تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ حیرانی اس لیے ہے کہ عام تاثر ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں وہی پارٹی کامیاب ہوتی آئی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے۔
ماضی میں وہاں جو بھی انتخابات ہوئے ان کے نتائج ہمیشہ ان پارٹیوں کے حق میں آئے اور انھی پارٹیوں کی وہاں حکومتیں قائم ہوئیں ۔ جنرل پرویز مشرف کے بعد ملک میں پہلے پیپلز پارٹی، پھر مسلم لیگ (ن) اور بعد میں پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت بنی تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت پی پی اور (ن) لیگ کی طرح اپنی 5 سالہ مدت پوری نہیں کر سکی تھی مگر اس کی حکومت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو انتخابات ہوئے تھے ان میں پی ٹی آئی ہی جیتی تھی اور دونوں جگہ پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہوئی تھیں۔
یہ بھی پہلی بار ہوا تھا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت جب اپریل 2022 میں ختم ہوئی تھی اس کی برطرفی ملک میں پہلی بار آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے کی گئی تھی جس کے بعد پہلے گلگت اور بعد میں آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی ختم کرائی گئی تھیں اس کی وجہ پی ٹی آئی کا اپنا ہی باہمی انتشار اور ارکان کا وفاداریاں تبدیل کر لینا تھا اور وہ بھی آئینی طور ہوا تھا۔ وفاق کی حکومتوں نے دونوں جگہ کی حکومتیں ختم نہیں کی تھیں بلکہ ارکان نے ہی اپنی حکومتیں تبدیل کیں جنھوں نے مدت پوری کی تھی۔
آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے کھلی دھاندلی کی تھی اور وزیر اعظم نے خود وہاں جا کر جلسے کیے تھے اور حد تو یہ تھی کہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے اس وقت کے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کو پابندی لگا کر آزاد کشمیر جانے سے روکا تھا مگر وزیر اعظم نے اپنے جہاز میںعلی امین گنڈا پور کو آزاد کشمیر لے جا کر الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی دھجیاں اڑا دی تھیں اور اپنے امیدوار کامیاب کرا کر وہاں اپنا وزیر اعظم منتخب کرایا تھا اور وہاں پی ٹی آئی نے اپنا پہلا وزیراعظم ہٹا کر اسلام آباد کے انتہائی دولت مند شخص کو وزیر اعظم بنایا تھا اور بعد کا تیسرا وزیراعظم بھی باہمی گروپ بندی کے باوجود پی ٹی آئی کا رکن اسمبلی تھا جس کے خلاف چند ماہ قبل تحریک عدم اعتماد آئی تھی اور باقی مدت کے لیے پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی رضامندی سے اپنا وزیر اعظم منتخب کرا لیا تھا اور اب وہاں 27 جولائی کو نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔
سیاسی مسائل کے حل میں مشہور آصف علی زرداری اپنی حکومتیں بنانے کے معاملے میں بہت سمجھ دار ہیں ،اسی لیے انھوں نے دوبارہ صدر بنتے ہی راہ ہموار کی اور بلوچستان میں (ن) لیگ کی مدد سے پی پی کا وزیر اعلیٰ منتخب کرایا تھا ،جب کہ سندھ میں تو پی پی کی چوتھی حکومت ہے۔ پی ٹی آئی کا وزیر اعظم بھی پیپلز پارٹی کی کوشش سے ہٹایا گیا تھا اور مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت میں بلوچستان کی (ن) لیگی حکومت بھی پیپلز پارٹی قیادت نے اعلانیہ ختم کرائی تھی جو اب بلوچستان میں پی پی حکومت کی اتحادی ہے۔
جان بوجھ کر پیپلز پارٹی نے موجودہ وفاق میں وزارتیں نہیں لی تھیں مگر پنجاب میں پی پی کی خواہش وزارتیں لینے کی اب تک ہے مگر مسلم لیگ ن کی پنجاب قیادت ایسا نہیں ہونے دے رہی مگر وہاں گورنر پیپلز پارٹی نے اپنا رکھوایا ہے اور صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو گورنر ہاؤس پنجاب میں ہی پی پی کی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں مگر دونوں رہنما اب تک پنجاب حکومت میں اپنا وزیر مقرر کرا سکے اور نہ ہی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو دوبارہ مقبولیت دلا سکے ہیں۔
گلگت کے حالیہ انتخابات میں پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور ان کی بہن نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جس سے مسلم لیگ (ن) کو شکست ہوئی جس کے ذمے دار خود مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہے۔ گلگت کے انتخابی دورے پر میاں نواز شریف مختصر وقت اور آخر میں گئے اور وہاں خود کسی جلسے سے خطاب نہیں کیا اور واپس آ کر جنیوا چلے گئے جہاں انھوں نے (ن) لیگ کی شکست کا منظر دیکھا جو وہاں ایک بھی بڑا جلسہ نہیں کر سکی تھی۔
وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو توقع تھی کہ ماضی کی طرح (ن) لیگ ہی گلگت میں کامیاب ہوگی مگر میدان اس پیپلز پارٹی نے مار لیا جس پر کراچی کی تباہی کے الزامات وہاں (ن) لیگ کے اجتماعات میں لگائے گئے کہ اگر گلگت والے لاہور اور پنجاب جیسی ترقی چاہتے ہیں تو (ن) لیگ کو کامیاب بنائیں مگر گلگت والوں نے کراچی کی تباہی کی ذمے دار پی پی کو اکثریت دی ۔
گلگت میں جیت اسی پیپلز پارٹی کی ہوئی جس کا اپنا صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، پنجاب و کے پی کی گورنر شپ، آزاد کشمیر، سندھ و بلوچستان کی اپنی حکومتیں ہیں جب کہ (ن) لیگ صرف پنجاب میں اپنی طاقت سے حکمران ہے جب کہ وفاقی حکومت پی پی کی حمایت سے بنی ۔
گلگت الیکشن میں کچھ نیا نہیں ہوا جہاں وزیر اعظم پر صدر مملکت کو ترجیح ملی جن کی دو صوبوں اور آزاد کشمیر میں حکومتیں ہیں اس لیے گلگت الیکشن میں وفاقی حکومت نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی تین حکومتیں ہی جیتی ہیں خواہ وہاں کی حکومتوں کی کارکردگی (ن) لیگ کی پنجاب جیسی نہیں ہے عوام نے گلگت الیکشن میں (ن) لیگ کو مسترد کرکے ثابت کر دیا کہ اس کی وفاقی حکومت کی کی گئی مہنگائی، بے روزگاری اور پالیسیاں قبول نہیں ۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.