زرعی ادویات، جراثیم کش مصنوعات ، پلاسٹک کی گھریلو اشیا، کچن ویئر،اسٹوریج آئٹمز پر ٹیکس لاگو کرنے کی بھی تجویز تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2026-27کے وفاقی بجٹ میں دودھ، گھی،بچوں کا فارمولا ملک اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات پر ٹیکسز عائد کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مختلف ساسز سمیت درجنوں گھریلو اشیا پر ٹیکس عائد کر دیئے ہیں۔
اس کے علاوہ ری ٹیل پیکنگ والی زرعی ادویات، جراثیم کش مصنوعات ، پلاسٹک کی گھریلو اشیا، کچن ویئر،اسٹوریج آئٹمز پر ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی ہے۔
بیگ، سوٹ کیس، ہینڈ بیگ، دیگرسفری سامان بھی مہنگا کر دیا گیا ہے جبکہ تمام قسم کے جوتے سیلز ٹیکس کے دائرہ کارمیں شامل کر دیئے گئے ہیں۔
باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم کے لوازمات پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے فنانس بل میں بڑے پیمانے پر ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ اضافی ریونیو اکٹھا کیا جاسکےجبکہ مجموعی طور پر 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات بجٹ کا حصہ ہوں گے ان میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ کے تحت ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی سینکڑوں اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہےاہم اشیاء میں دودھ، بچوں کا فارمولا ملک اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات بھی شامل ہیں جن پر ٹیکس لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گھی، خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مختلف ساسز پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ری ٹیل پیکنگ والی زرعی ادویات،جراثیم کش مصنوعات ، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، کچن ویئر،اسٹوریج آئٹمز پر ٹیکس لاگو ہوگا ۔ بیگ، سوٹ کیس، ہینڈ بیگ، دیگرسفری سامان بھی مہنگا کر دیا گیا ہے اورتمام قسم کے جوتے سیلز ٹیکس کے دائرہ کارمیں شامل کر دیئے گئے ہیں۔
باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم کے لوازمات پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا، کراکری، گھریلو استعمال کی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس وصول کیا جائےگاگاڑیوں اورآٹو موبائل لوازمات کی ری ٹیل فروخت پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔
2سے 3 کروڑ والی لگژری ایس یو وی گاڑیوں پر 30 فیصد ٹیکس عائدکر دیا گیا، 3 کروڑ سے مہنگی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا۔
غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے 0.50 فیصدکر دی گئی۔ خام مال درآمدکر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر3 فیصد ٹیکس لگایا گیاہے 10کروڑ روپے سے زائد پراپرٹی خریدنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے جائیداد، ریٹیل اشیاء اور لگژری مصنوعات پر نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے مجوزہ قانون کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والے افراد کے لیے آمدن کے ذرائع بتانا لازمی ہوگا۔
ذرائع آمدن ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ایسی جائیداد کی خریداری ممکن نہیں ہوگی۔ یہ قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگااسی طرح پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز پر اضافی ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
بجٹ میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی اشیاء جیسے جیمز، فروٹ جوسز اور دیگر مشروبات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہےنئے بجٹ میں لگژری گاڑیاں مہنگی ہو گئیں جبکہ سولر پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراکری، گھریلو استعمال کی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس وصول کیا جائےگا گاڑیوں اورآٹو موبائل لوازمات کی ری ٹیل فروخت پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، 2سے 3 کروڑ والی لگژری ایس یو وی گاڑیوں پر 30 فیصد ٹیکس عائدکر دیا گیا۔
3 کروڑ سے مہنگی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا،غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا،ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے 0.50 فیصدکر دی گئی خام مال درآمدکر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر3 فیصد ٹیکس لگایا گیاہے۔
بجٹ 2026-27، بیرون ملک فضائی ٹکٹوں کی قیمت میں بڑی کمی وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت بیرون ملک بزنس کلاس فضائی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف سی ڈی) میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
تجویز کے مطابق امریکہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈیوٹی ایک لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح یورپ جانے والے مسافروں کے لیے ایف ای ڈی 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.