Native World News

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ؛ ایکسپورٹرز پر ٹیکس کم اور ایف ٹی آر میں شامل کرنے کی سفارش

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ؛ ایکسپورٹرز پر ٹیکس کم اور ایف ٹی آر میں شامل کرنے کی سفارش

اگر حکومت کو زرمبادلہ نہیں بلکہ صرف ٹیکس چاہیے تو ایکسپورٹرز پر 45 فیصد ٹیکس عائد کر دے، سینیٹر طلحہ محمود

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایکسپورٹرز پر ٹیکس کم اور ایف ٹی آر میں شامل کرنے کی سفارش کردی۔

سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے جاوید بلوانی نے ایکسپورٹرز کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ نارمل ٹیکس رجیم میں ٹیکس کی شرح ایک فیصد کرکے اسے فائنل ٹیکس رجیم کا حصہ بنایا جائے۔ جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ ہر سال یہ کہا جاتا ہے کہ اگلے سال اس ٹیکس کو ایف ٹی آر میں شامل کیا جائے گا، تاہم اب تک ایسا نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز نے سوال اٹھایا کہ آخر اس ٹیکس کو فائنل ٹیکس رجیم میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایک فیصد ٹیکس بھی نہیں ہونا چاہیے، اگر حکومت کو زرمبادلہ نہیں بلکہ صرف ٹیکس چاہیے تو ایکسپورٹرز پر 45 فیصد ٹیکس عائد کر دے۔

انہوں نے کہا کہ مزید ٹیکس لگانے سے برآمدات میں اضافہ نہیں ہوگا ، ٹیکس کی شرح 0.50 فیصد کر دی جانی چاہیے۔ طلحہ محمود نے کہا کہ وہ اس ترمیم کو منظور نہیں ہونے دیں گے اور اس معاملے پر بھرپور مخالفت کریں گے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ اس ٹیکس میں ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سپر ٹیکس کی 6 سلیبز ختم کی گئی ہیں، برآمد کنندگان کو ساڑھے 4 فیصد شرح سود پر فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے ، اس مقصد کے لیے بجٹ میں سبسڈی بھی رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے پاس وسائل نہ ہوتے تو 2022 کی طرح بیرونی امداد کے لیے جانا پڑتا، تاہم پاکستان کے پاس اندرونی اور بیرونی بفرز موجود تھے، اسی لیے عالمی تیل بحران کے باوجود ملک میں ایندھن کی قلت اور قطاروں کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ٹیکس تمام شعبوں کو دینا پڑے گا۔

جاوید بلوانی نے کہا کہ ایکسپورٹرز سے ساڑھے 4 نہیں بلکہ 5 فیصد شرح سود وصول کی جاتی ہے ۔ سپر ٹیکس نے برآمد کنندگان کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کی ادائیگی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے ، فاسٹر سسٹم کے ذریعے ادائیگیوں کا عمل بہتر ہوا ہے۔ اگرچہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کی تاخیر اب بھی موجود ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر ایکسپورٹرز کو ریفنڈز کیوں نہیں دے رہا، جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ریفنڈز ادا کیے جا رہے ہیں ۔ اس سال ریکارڈ ریفنڈ جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس کبھی ایکسپورٹرز کے ریفنڈز سے متعلق شکایت نہیں آئی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ معاملات نچلی سطح پر طے ہوتے ہیں جبکہ اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹس دی جاتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریفنڈ صرف ’مک مکا پروگرام‘ کے تحت ملتے ہیں۔

نمائندہ اسٹیشنری انڈسٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت تقریباً 400 ارب روپے کے ریفنڈز پھنسے ہوئے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ کووڈ کے دور کی طرح ایک بار میں ریفنڈز جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف چاول کے برآمد کنندگان کی مالی معاونت کی ہے۔

اجلاس میں تاجروں کی اسکیم، فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز اور ٹیکس نیٹ میں اضافے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔

سینیٹر محسن عزیز نے مطالبہ کیا کہ فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کی واضح فہرست مرتب کی جائے ، اسے اوپن اینڈڈ نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کو آسان اسکیم کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لانا مشکل ہے، نافائلرز کا 3 فیصد اضافی ٹیکس صنعتکار ادا کرتا ہے جبکہ تاجر نہیں دیتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاجروں سے 25 ہزار روپے کے بجائے زیادہ ٹیکس لیا جائے، ان سے بتدریج ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے 5 سالہ منصوبہ بنایا جائے اور انکم ٹیکس کے ساتھ سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں پر ایک فیصد ٹیکس بہت کم ہے اور اسے بڑھایا جانا چاہیے۔

محسن عزیز نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی پیچھے رہ گیا ہے ۔ جو تاجر اب بھی ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے سپر ٹیکس کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کرنے، تعلیم اور اسٹیشنری کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے اور آئی ایم ایف سے اس حوالے سے خصوصی رعایت لینے کی تجویز بھی پیش کی۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے مختلف خیراتی اداروں کو دیے گئے ٹیکس ریلیف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک سے وہ مشنری ادارے جا چکے ہیں جو مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرتے تھے جبکہ اب بعض خیراتی اسپتال لاکھوں روپے کے اخراجات وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے وزارت خزانہ کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی انویسٹی گیشن یونٹ قائم کرنے کی تجویز دی۔

سلیم مانڈوی والا نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں خیراتی اداروں میں نقد رقم کی وصولی ممنوع قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی لیکن ایف بی آر نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔

وزیر خزانہ نے تجویز دی کہ کیش کاؤنٹرز بند کر دیے جائیں ۔ ٹیکس پالیسی آفس اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ سلیم مانڈوی والا نے بھی کیش کاؤنٹرز بند کرنے اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وہ خصوصی اجازت لے کر اجلاس میں آئے ہیں، جس پر سلیم مانڈوی والا نے انہیں اجلاس میں شرکت جاری رکھنے کا کہا۔

محسن عزیز نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ خصوصی اجازت کے باوجود ان کے خلاف جھنڈا نکل سکتا ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے موجودہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تو ان کی جماعت بھی بائیکاٹ کا کہہ سکتی ہے۔ اس پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے، جس کے جواب میں عبدالقادر نے کہا کہ وہ تو سب سے بڑی جماعت میں ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے ایکسپورٹرز پر عائد ٹیکس کو فائنل ٹیکس رجیم میں شامل کرنے اور اس کی شرح کم کرنے کی سفارش کر دی۔

Source: https://www.express.pk/story/2817769/senate-standing-committee-on-finance-recommends-reducing-taxes-on-exporters-and-including-them-in-ftr-2817769/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.