Native World News

بات جو دل سے نکلتی ہے

بات جو دل سے نکلتی ہے

ایسی ای میلز، پیغامات اور خطوط کسی لکھاری کے اندر نئی روح پھونک دیتے ہیں

میرے گزشتہ کالم کے بعد مجھے کچھ لوگوں کی ای میل موصول ہوئیں، ان سب کا لب لباب یہی تھا کہ وہ اس کالم سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان کے خیال میں وہ عمر کی چھٹی یا ساتویں دہائی میں ہیں، ملازمتوں اور کاروباروں سے ریٹائر ہو چکے ہیں یا بچوں نے کاروبار سنبھال لیے ہیں اور ابا جان کو ’’ فارغ‘‘ کر دیا ہے کہ وہ اب گھر بیٹھیں اور فرصت کے مزے لوٹیں مگر اصل میں فرصت تو انسا ن کو بے کار کردیتی ہے اس لیے میں ایسے بچوں سے کہوں گی کہ آپ نے سارا کام سنبھال لیا اور اس کے بعد اپنے والدین کو فرصت ہی فرصت نہ دیں۔ وہ اس کا کیا کریں گے کہ بیٹھ بیٹھ کر ڈیپریشن کا شکار ہو جائیں گے اور دن بدن کمزور پڑتے جائیں گے۔

آپ انھیں کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈ کردیں، انھیں اپنے ساتھ کہیں گھمانے پھرانے کے لیے لے جائیں یا ان کے لیے ٹرپ کا انتظام کریں۔ لازم نہیں کہ وہ ٹرپ بیرون ملک کے ہی ہوں، اندرون ملک بھی اتنا کچھ دیکھنے کو ہے، ان کے ساتھ خود چلے جائیں یا اپنے خاندان اور ان کے دوستوں میںسے ان کے ساتھ کسی کو نتھی کریں اور ان کے لیے تمام انتظامات کردیں جو کہ آپ گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔

ان کے دوست اور احباب کے ساتھ ان کی چھوٹی چھوٹی پکنک یا گھروں پر چھوٹی چھوٹی پارٹی کا اہتمام کریں۔ انھیں عضو معطل بنا کر نہ بٹھائیں بلکہ انھیں کسی نہ کسی ایسے کام میں مصروف کردیں جو کہ وہ اپنی جوانی میں کام کی مصروفیات کے باعث نہیں کرسکے۔

ان سے پوچھیں کہ ایسا کیا تھا جو انھوں نے کرنا چاہا مگر کام کی مصروفیت اور بچوں کی مجبوریوں کے باعث نہیں کر سکے، ا ن کے ان خوابوں کو تعبیر دیں اور وہ جب تک چل سکتے ہیں، انھیں چلتا رکھیں۔

انھی ای میل میں سے ایک ای میل ایک صاحب کی، میں اسے یہاں لکھنا چاہوں گی۔ ابتدائی الفاظ میں انھوں نے بتایا ہے کہ وہ میرے کالموں کے باقاعدہ قاری ہیں اور اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ میرے کالم ، ’’بعد دوپہر‘‘ سے وہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔

وہ خود بھی ساٹھ سے اوپر کے سن میں ہیں اور انھیں اس کالم میں دی گئی تجاویز نے بہت متاثر کیا۔ میرے کالم میں دی گئی تجاویز نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی عمر اور ان کے حالات جیسے تمام لوگوں کے لیے سوچ کا باعث بنتے ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ وہ پاکستا ن ٹیلی وژن میں پینتیس سال ملازمت کرنے کے بعدکچھ عرصہ پہلے ریٹائر ہوئے ہیں، ان کا تعلق خبروں کے شعبے سے تھا اور اس ملازمت نے انھیں دن رات مصروف رکھا اور اس کے ساتھ ساتھ کام کی ٹینشن بھی بہت تھی۔

بچے اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو چکے ہیں اور ان کی بیوی کوکہیں بھی گھومنے پھرنے کا شوق نہیں ہے۔ اس مصروف زندگی سے ریٹائر ہو کر اب ان کے پاس جمع شدہ پونجی اور وقت ہی وقت ہے لیکن اس کا مصرف کیا ہو، اس کا علم نہیں۔ میرے کالم نے انھیں اچھوتا آئیڈیا دیا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، انھیں بیرون ملک سفر کرنے کا بھی شوق ہے مگر ساتھ ہی یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اکیلے کیسے جائیں۔

آج کل جس طرح لوگ مختلف ٹریول گروپوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں، انھیں سن کر اچھا بھی لگا اور تسلی ہوئی مگر بالکل انجان لوگوں کے ساتھ یوں تن تنہا سفر کرنا انھیں ذرا عجیب اور ناقابل عمل لگا تو انھوں نے کوشش کر کے اپنے جیسے ہی کچھ دوستوں کو بھی اس کے لیے تیار کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک سفر کریں تو وہ تیار ہو گئے ہیں اور اب وہ مختلف منصوبوں پر سوچ رہے ہیں۔

ایک اور صاحب نے لکھا کہ وہ ہر وقت گھر میں بند رہتے تھے، نہ کسی سے بات کرنے کو دل چاہتا تھا اور کبھی کبھار تو کچھ کھانے کو بھی نہیں کہ پہلا کھانا ہی ہضم نہیں ہوا ہوتا تھا۔ انھوں نے میرا کالم پڑھا اور سوچا کہ وہ کیا کرسکتے ہیں-

انھوں نے چہل قدمی شروع کی، مسجد جانا شروع کیا، دوستوں سے کالیں کر کے منقطع رابطے بحال کیے اور اب طے ہوا ہے کہ ہفتے میں کسی ایک دن چھ دوست کسی ایک کے گھر میں جمع ہوا کریں گے اور چائے کے ساتھ گپ شپ کیا کریں گے۔ مزید دوستوں کو بھی رابطے کر کے شامل کریں گے۔

ان صاحب کی رفیقہ حیات ان کا ساتھ چھوڑ چکیں اور بچے بیرون ملک میں ہیں۔ ا ن کا سارا گھریلو نظام ملازمین کے سہارے چلتا ہے، و ہ بھی اب باہر نکل کر اپنے لان میں ملازمیں سے صفائی کرواتے ہیں اور مالی کو بھی چیک کرتے ہیں۔

کالونی میں بھی دعا سلام اور رابطہ بنا لیا ہے، آخر میں لکھتے ہیں، ’’ حیرت ہے کہ اب مجھے بھوک بھی لگتی ہے اور جسم فعال اورچست ہو گیا ہے، اتنی سوشل مصروفیت ہو گئی ہے کہ باقاعدہ ڈائری میں لکھنا پڑتا ہے کہ کس دن کیا مصروفیت ہے۔‘‘

کتنی اچھی بات ہے کہ لوگ ایک کالم پڑھ کر، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے لیکن اگر کسی نے اس میں سے اچھی بات پر عمل کیا اور اس کی زندگی کا ڈھب بدل گیا تو اس کالم کی عمر اتنی ہی بڑھ گئی جب تک اس اچھی بات پر عمل ہوتا رہے۔

اگر ایک شخص بھی میرے لکھے کے مقصد کو سمجھے، ا س کی روح کو جانے اور اس پر عمل کرے تو میری محنت کی قیمت وصول ہو گئی۔ اکثر لوگ ای میل میں کہتے ہیں کہ جیسا میںنے لکھا ہے، ویسا ہی وہ سوچتے تھے مگر انھیں اس بات کو لکھنا یااچھے طریقے سے وضاحت کرنا نہیں آتا۔

ظاہر ہے کہ یہی بات کسی کو لکھاری بناتی ہے کہ وہ ہر ایک کی سوچ کو الفاظ میں ڈھال کر پیش کرتا ہے، مسائل کا تذکرہ کرتا ہے اور ان کے حل بتاتا ہے، کسی ایک کا ذاتی مسئلہ ہو، کوئی ضرورت ہو تو اسے حوالۂ قلم کر کے ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچاتا ہے، کسی نہ کسی کے پاس اس مسئلے کا حل ہوگا۔

ایسی ای میلز، پیغامات اور خطوط کسی لکھاری کے اندر نئی روح پھونک دیتے ہیں، کتنا خوش کن احساس ہوتا ہے کہ آپ کے لکھے نے کسی پر اثر کیا ہے، آپ کو اپنے الفاظ کی طاقت محسوس ہوتی ہے۔ جب بھی کچھ اچھا دیکھیں تو اس کی تعریف میں بخل سے کام نہ لیں، کچھ اچھا ملے تو اس پر اللہ کا اور دینے والے کا شکر ضرور ادا کریں، خواہ وہ کچھ بھی ہو، اولاد صالح، اچھا ساتھی یا دوست، اچھی ملازمت یا کوئی تحفہ۔

اسی طرح اگر کچھ ایسا پڑھیں جس سے آپ کی سوچ کا ر بدل جائے، آپ کو مثبت احساس ہو تو لکھنے والے کی تعریف اس تک ضرور پہنچائیں کہ اسی سے اس کے قلم میں سیاہی بنتی ہے۔ زندگی کے ہر پل کا لطف اٹھائیں اور اس وقت تک بھرپور جئیں جب تک سانس چل رہی ہے اور روح بدن سے ملی ہوئی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817423/what-comes-from-the-heart-2817423/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.