یکم مئی کو متحدہ عرب امارات نے بھی اوپیک سے 60 سالہ رشتہ ختم کردیا تھا
عراق نے تیل کے پیداواری ممالک کی تنظیم اوپیک سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران جنگ میں اس کی تیل کی صنعت کو پہنچنے والے نقصان اور ملکی اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے خام تیل کی پیداوار کا کوٹہ بڑھایا جائے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی وزارتِ تیل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق خود اوپیک کا بانی رکن ہے اور حالیہ جنگ سے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی طرح شدید متاثر ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراق کی معیشت کا تقریباً 90 فیصد انحصار تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے اس لیے پیداوار میں کسی بھی قسم کی پابندی ملکی بجٹ اور اقتصادی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراق مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اوپیک رکن ممالک کی پیداواری بنیاد کا ازسرِ نو جائزہ لے تاکہ ہر ملک کی حقیقی اور پائیدار پیداواری صلاحیت کے مطابق کوٹے مقرر کیے جا سکیں۔
عراقی وزارت پیٹرولیم کے بیان میں مزید کہا گیا کہ عراق کے منفرد سیکیورٹی اور اقتصادی حالات کو بھی اس عمل میں خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔
وزارتِ تیل نے بتایا کہ اوپیک نے رکن ممالک کی پیداواری صلاحیتوں کے نئے جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے بعد کوٹوں میں ردوبدل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق اوپیک سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے۔
عراقی وزارتِ تیل کے ترجمان سلیم الرکابی نے کہا کہ اس وقت عراق کا تنظیم چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ اوپیک کے تمام ضوابط اور فیصلوں کا پابند ہے۔
البتہ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراق کو اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق زیادہ کوٹہ دیا جانا چاہیے۔ اگر اوپیک عراق کے پیداواری کوٹے میں اضافہ نہیں کرتی تو پھر حکومت کو تنظیم میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یکم مئی 2026 سے اوپیک اور اوپیک پلس کی تقریباً 60 سالہ رکنیت باضابطہ طور پر ختم کر دی۔
اس کا مقصد اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنا، زیادہ سے زیادہ تیل کی آمدنی حاصل کرنا اور مستقبل میں ہائیڈروکاربن کے دور کے بتدریج خاتمے سے قبل اپنے توانائی وسائل سے بھرپور اقتصادی فائدہ اٹھانا ہے۔
اس فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات اپنی پیداواری پالیسی کا تعین قومی مفادات اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کرنے کا مجاز ہو گیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.