Native World News

وفاقی بجٹ اور یونیورسٹیوں کا بحران

وفاقی بجٹ اور یونیورسٹیوں کا بحران

جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہوگئی ہے، غربت 28 فیصد سے زیادہ ہوگئی۔

جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہوگئی ہے، غربت 28 فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ وفاقی حکومت کے بجٹ سے قبل جاری اقتصادی سروے کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ مالیاتی سال کے دوران معیشت زبوں حالی کا شکار رہی۔ اگلے مالیاتی سال میں دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف 46 ارب روپے رکھے گئے۔

ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43ارب 80 کروڑ روپے، نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ کی انجمنوں پر مشتمل تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ رقم بڑھا کر اسے 30 بلین ہونا چاہیے۔ حکومت نے اس بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد کے اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال کے دوران اعلیٰ تعلیم کے لیے یہی بجٹ رکھا گیا تھا۔ ملک کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مالیاتی حالات مسلسل خراب ہیں اور نئے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے سے یونیورسٹیوں کے بحران میں مزید شدت آنے کے امکانات ہیں۔

وفاق اور صوبوں کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے انتظامی کنٹرول کی مختلف صورتحال ہے۔ وفاقی یونیورسٹیوں کو صرف وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے گرانٹ ملتی ہے۔ باقی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو متعلقہ صوبے بھی گرانٹ دے سکتے ہیں مگر صوبہ سندھ کو یہ امتیاز حاصل ہے جہاں صوبائی حکومت سب سے زیادہ گرانٹ یونیورسٹیوں کو دیتی ہے۔

یہ یونیورسٹیاں طلبہ کی فیسوں اور دیگر ذرائع سے بھی آمدنی حاصل کرتی ہیں مگر سندھ، بلوچستان اور پختون خوا کی بیشتر یونیورسٹیاں شدید مالیاتی بحران کا شکار ہیں۔ خیبر پختون خوا کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے مسائل گھمبیر ہورہے ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی سمیت صوبہ کی دیگر جامعات میں اساتذہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا ایک بہت بڑا مسئلہ سامنے آرہا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ اور دیگر ملازمین نے ایک ماہ سے زیادہ تک ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی، شام کے پروگرام کے بلوں کی ادائیگی اور اساتذہ کی ترقیوں کے لیے زیر التواء سلیکشن بورڈ کے مسائل حل کرنے کے لیے امتحانات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ وفاق کے زیر ِ انتظام یونیورسٹیوں کو صرف وفاقی ایچ ای سی کی گرانٹ اور طلبہ کی فیسوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے، یوں قومی زبان اردو کے نام پر بننے والی وفاقی اردو یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ملک کی سب سے بڑی قائد اعظم یونیورسٹی کا مالیاتی بحران اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب کوئی بینک یونیورسٹیوں کو قرضہ تک دینے کو تیار نہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کو گزشتہ 2 سال سے ہاؤس سیلنگ ادا نہیں کی گئی۔

صرف مخصوص شعبوں کے اساتذہ کی ترقیوں کے لیے سلیکشن بورڈ کی تیاری ہے جب کہ اساتذہ و دیگر عمال اور ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو علاج معالجہ کے سہولتوں سے محروم کردیا گیا۔ وائس چانسلر نے دانائی کا ثبوت دیتے ہوئے حکمت کی ایک دکان کھولنے کی اجازت دیدی تھی۔ اس یونیورسٹی کا انتظامی اور مالیاتی بحران کتنا شدید ہے، اس بات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ 2017کے بعد ریٹائر ہونے والے اساتذہ و دیگر عمال کو آج تک واجبات ادا نہیں کیے گئے اور اس دوران 10 ریٹائرڈ اساتذہ اور 6 ریٹائرڈ عمال انتقال کرچکے ہیں مگر انھیں پنشن اور واجبات کی ادائیگی نہیں ہوسکی۔

وفاقی محتسب نے اپنے کئی فیصلوں میں یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ یونیورسٹی کے مختلف ڈپازٹ میں 67 کروڑ جمع ہیں جو منافع کے بعد اب تقریباً 1 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں مگر انتظامیہ نے ان فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔ وفاقی یونیورسٹیوں میں مالیاتی بحران کی بناء پر عمارتوں کی تعمیر اور پرانی عمارتوں کی مرمت کا کام رکا ہوا ہے۔

ان یونیورسٹیوں میں تحقیق کے پروجیکٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبہ جات میں تحقیق کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کیمیکل بعض اوقات خود خریدتے ہیں۔ ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور اعلیٰ تعلیم کی صورتحال سے واقف دانشوروں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ایک بھاری رقم دانش یونیورسٹی کے قیام پر خرچ کرنے کے بجائے ملک کی ان یونیورسٹیوں کو دی جائے جو اپنی بقاء کی جدوجہد کررہی ہیں مگر وفاقی حکومت نے سیاسی وجوہات کی بناء پر بھاری رقم نئی یونیورسٹی بنانے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وفاقی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کردی ۔ اب نئے بجٹ میں پھر گزشتہ مالیاتی سال کی تجویز کردہ رقم میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ تنخواہوں ، الاؤنسز اور پنشن میں اضافہ سے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں ایک نیا بحران پیدا ہوگا ۔

حکومت کی پالیسی کے تحت تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے اپنی فیسوں میں دوگنے سے زیادہ اضافہ کیا ہے مگر اس کے دیگر نقصانات سامنے آئے ہیں اور داخلے کم ہوگئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں 13 فیصد کم داخلے ہوئے۔ کئی یونیورسٹیوں میں سوشل سائنسز، مادر زبانوں، تاریخ اور فلسفہ کے علاوہ بنیادی سائنس کے کئی شعبہ جات میں داخلوں کی شرح انتہائی کم ہے۔ اساتذہ کی انجمنوں کی تنظیم کا مؤقف ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (P.S.D.P)بحال ہونا چاہیے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کو دی جانے والی 65 بلین کی گرانٹ 3سال سے منجمد ہے اور اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے جس کی بناء پر اعلیٰ تعلیم پر ہونے والے اخراجات کم ہو کر جی ڈی پی کا 0.06 فیصد تک رہ گئے ہیں۔ اسی طرح TTSپر فرائض انجام دینے والے اساتذہ کی 9برسوں میں صرف 3تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں۔

اعلیٰ تعلیم پر اخراجات کم ہونے کا اب سے بڑا نقصان ان 3ملین بچوں کو ہوگا جو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ خاص طور پر متوسط اور نچلے طبقہ کے بچوں کے لیے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ ایک ترقی پزیر ملک میں یونیورسٹیوں میں طلبہ کے داخلے کم ہونے کا مطلب اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کا کم ہونا ہے۔

کسی ملک میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کم ہوگی تو وہ ملک سائنس و ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جائے گا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پیچھے رہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ملک اپنی خودمختاری کھو دے گا۔ حکومت کو ہر صورت اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ یونیورسٹیاں معاشرے کی نگہبانی کا فریضہ آسانی سے انجام دے سکیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2818027/wifaqi-budget-aur-universities-ka-bahraan-2818027

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.