Native World News

ایران کا افزودہ یورینیئم، امریکا کیلیے پریشانی؛ پوٹن نے چینی صدر کو راز کی بات بتادی

ایران کا افزودہ یورینیئم، امریکا کیلیے پریشانی؛ پوٹن نے چینی صدر کو راز کی بات بتادی

روس ایسا صرف اس لیے کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم کی جا سکے، پوٹن

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں ایران کی صورتحال، جوہری تنازع اور خطے میں جاری کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سرکاری دفتر کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پوٹن نے شی جنپنگ کو ایک بار پھر یہ تجویز دی کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنی سرزمین پر منتقل کر کے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس ایسا صرف اس لیے کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں امن و استحکام ہو۔

قبل ازیں صدر پوٹن نے کہا تھا کہ ابتدائی طور پر تمام فریق اس فارمولے پر متفق تھے تاہم بعد میں امریکا نے مؤقف سخت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یورینیم روس کے بجائے امریکی نگرانی میں منتقل کیا جائے جس کے بعد ایران نے بھی اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کا معاملہ کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے اور روس بارہا اس پر اپنی خدمات پیش کر چکا ہے۔

روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ماضی میں بھی 2015 کے جوہری معاہدے کے دوران ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرچکے ہیں اور اب بھی اسی تجربے کو دہرانے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے پاس موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیم مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے خدشات کو بڑھاتا ہے اس لیے کسی بھی امن معاہدے میں اس ذخیرے کو ایران سے باہر منتقل کرنا ضروری ہوگا۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد، طبی تحقیق اور توانائی کی ضروریات کے لیے ہے اور یورینیم ملک سے باہر بھیجنا قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2814122/putin-told-chinas-xi-that-russia-open-to-storing-irans-enriched-uranium-kremlin-2814122/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.