نہ ختم ہونے والے بڑھتے ہوئے عوامی مسائل اسی خوف کی پیداوار ہیں
اس وقت مجھے ایک پرانی پاکستانی پنجابی فلم’’ الٹی میٹم‘‘ یاد آ رہی ہے۔ جس میں کیفی اور غزالہ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ اس فلم میں اداکارہ غزالہ ہر بات کو الٹا سمجھتی ہیں۔ مثلاً وہ ہاں کو نہ اور نہ کو ہاں سمجھتی ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے حکمرانوں کا رہا ہے۔ عوام جینے کے لیے سہولیات زندگی چاہتے ہیں اور حکمران انھیں مارنے کے سامان پیدا کرتے رہتے ہیں۔
بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے ملکی ترقی اور قوم کی خوش حالی کے لیے بس کام، کام اور کام کرنے کا درس دیا تھا۔ قائد اعظم کی رحلت۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت اور دیگر اہم تحریکی رہنماؤں کا حشر کرنے کے بعد ملک کی باگ ڈور ایسے کم فہم حکمرانوں کے ہتھے چڑھ گئی ، جو قائد اعظم کے تین اصولوں۔ یقین محکم،اتحاد، تنظیم۔ کے معنی سمجھ ہی نہ سکے اور ان کی دھجیاں بکھیرنا شروع کردیں۔
جدی پشتی حکمرانوں نے قائد اعظم کے فرمان۔ کام، کام اور بس کام کا مطلب بھی الٹا نکالا، اسے چھٹی، چھٹی اور چھٹی سمجھ لیا گیا۔ سال بھر کے کام کرنے والے دنوں اور چھٹیوں کے ایام کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چھٹیوں کے ایام سر فہرست ہیں۔ جس سے قوم کی آرام دہ ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے، ایسی قوم سے ترقی کرنے کی امید عبث ہے۔
یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارا پیارا وطن معاشی لحاظ سے کمزور تر ہوتا گیا اور ملک و قوم اندرونی و بیرونی قرضوں۔ سود اور کڑی شرائط کی زنجیروں میں جکڑتا رہا اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری قومی بجٹ آئی ایم ایف کی تجاویز پر مبنی ہوتا ہے جسے حکمران رسمی طور پر قومی اسمبلی میں پیش کرکے عوامی بجٹ کا نام دیتے آرہے ہیں۔
قرض، سود در سود اورکڑی شرائط پر مبنی ہماری معیشت کا پہیہ اسی طرح گول گھوم گھوم کر لٹو کے مانند ہوگیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے لیے بھی قرض پر قرض لیے جاتے رہے ہیں۔
قوم، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس کر سرمہ بن چکی ہے جو کہ اشرافیہ کی چمکتی دھمکتی آنکھوں میں سجی دکھائی دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات و مراعات اوپر سے لے کر نیچے تک بدعنوانیوں کے قصے عوام الناس کو میڈیا کے توسط سے دیکھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی کو حقیقتاً سزا ملی ہو۔
اگر بد عنوانیوں کے داغ دامن پر لگے بھی ہو تو بعد ازاں سیاسی انتقام کا نام دے کر راوی دریا میں ڈبکیاں لگاتے جاتے رہے ہیں جس سے بدن پر لگے تمام داغ دھبے مٹتے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ نئی بات نہیں ہے۔ ملک کی آٹھ نسلیں اسی کھیل تماشے سے محظوظ ہوتی رہی ہیں۔
الحمداللہ۔ ملکی دفاع مضبوط تر ہوگیا ہے لیکن عوام کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں جس کا نظارہ دنیا کرتی آرہی ہے۔خود کشیاں، اولادوں کی خرید و فروخت اور عزتوں کا پامال ہونا۔ بڑھتے ہو جرائم وغیرہ اب عام سی باتیں ہوگئی ہیں۔ کوئی نوٹس ،کوئی اقدام وقتی طور پر ثابت ہورہے ہیں، بعد ازاں پھر وہی روزمرہ کی خبریں، تبصرے وغیرہ،کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی۔
کس کس شعبے کا حوالہ دیا جا ئے یہاں تو عوام کو ریلیف دینے والے ہر سرکاری محکمہ جاتی شعبے نام کے رہ گئے ہیں جب کہ فائلوں میں ان کے سالانہ اخراجات میں اضافہ ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ عوامی ادارے دھڑا دھڑ فروخت کیے جاچکے ہیں، ان کی آمدنیوں کا حساب کتاب قوم سے مخفی ہیں یا کہ مشکوک، یہ الگ داستان ہے جو باقی عوامی ادارے رہ گئے ہیں وہ بھی نیلام گھر کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کی لوری بہت پرانی ہے جسے سن سن کر قوم سوتی رہی ہے۔اشرافیہ پر انجانا خوف طاری رہتا ہے کہ کہیں قوم جاگ نہ جائے اور ان کا دھیان ،ان کی کرتوں توں کی طرف نہ ہو جائے۔
نہ ختم ہونے والے بڑھتے ہوئے عوامی مسائل اسی خوف کی پیداوار ہیں۔ پینے کے پانی کی کمیابی و عدم دستیابی ، سرد موسم ہو یاکہ گرم موسم بجلی و گیس کا اذیت ناک حد تک غائب ہونا۔روزمرہ کی زندگی کو بری طرح سے متاثر کرتے ہیں۔
ریاست نے عوامی فلاح و بہبود کے ضمن میں اپنی ذمے داریوں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ عوام کو خون خوار نجی کمپنیوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ حکومتی کام صرف قرض لینا اور مزید قرضے لے کر ان کی ادائیگیاں کرنا اور بھاری بھر کم ٹیکس عائد کرنا رہ گیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام سے ٹیکسوں کے مد میں حاصل کی گئی کمائی کے اربوں و کھربوں روپے کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ عوام کیوں کر زندگی کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں؟عوامی سطح پر ریاست کی ذمے داریاں ناپید ہوتی جارہی ہیں۔
وقت ملے تو حکمران طبقہ اس جانب بھی توجہ مرکوز کرے۔ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جو کہ اولاد کی پرورش میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتی اور اولاد کی نظریں بھی ماں کی طرف لگی رہتی ہیں کہ وہی ان کی فلاح و بہبود کی ذمے دار ہوتی ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.