سندھ کے شعبہ صحت میں بڑے پیمانے پر قانونی اور انتظامی اصلاحات متعارف کروا دی گئی
سندھ کابینہ نے محکمہ صحت کے 4 اہم ایجنڈا نکات کی منظوری دیتے ہوئے صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر قانونی اور انتظامی اصلاحات متعارف کروا دی۔
سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں کابینہ کا اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈکل سینٹر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ آپریشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ 2025 کے مسودہ بل کی منظوری دی گئی جس کے سبب سندھ حکومت کو جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ کے انتظامی اختیارات باضابطہ طور پر منتقل کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔
کابینہ کا آگاہی دی گئی کہ این آئی سی وی ڈی پہلے ہی صوبائی قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ صوبائی کابینہ نے وفاق سے منتقل شدہ طبی اداروں کے انتظام کے لیے نیا قانونی فریم ورک بھی منظور کر لیا۔
جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ کے لیے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کے قواعد طے کر دیے گئے جبکہ سندھ کابینہ نے ناقص کارکردگی یا نااہلی پر عہدے سے ہٹانے کا باضابطہ طریقہ کار بھی منظور کرلیا۔
سندھ کابینہ نے وفاقی وزارتِ صحت کے جوائنٹ سیکریٹری کو بورڈ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔ ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی کابینہ نے بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
جان بچانے والی ادویات کی مسلسل فراہمی کے لیے الیکٹرانک پروونشل پروکیورمنٹ ڈیٹا سسٹم (EPADS) ٹینڈر جاری رکھنے کی منظوری دے دی گئی۔
مالی سال 27-2026ء کے لیے ادویات اور میڈیکل کٹس کی خریداری کا موجودہ نظام برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آنکولوجی اور ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کی ادویات بھی EPADS فریم ورک میں شامل ہیں۔
آئندہ مالی سال 28-2027ء کے ٹینڈر کے لیے جولائی 2026 میں پیشگی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ کابینہ نے سندھ پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی پالیسی 2026ء نافذ کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
تمام سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز اور تدریسی اداروں میں یکساں پوسٹ گریجویٹ داخلہ نظام نافذ ہوگا۔ ایف سی پی ایس ٹو اور دیگر پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کے لیے مرکزی داخلہ ٹیسٹ متعارف کروا دیا گیا۔
کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ پہلے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلے ہر جامعہ اپنے طور پر کرتی تھی، جس کے مد نظر رکھتے ہوئے سندھ کابینہ نے نئی پالیسی کے تحت مرکزی داخلہ ٹیسٹ اور میرٹ فارمولا نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سندھ کابینہ نے 3 ہزار 794 تربیتی نشستوں کے لیے 4 ارب 73 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کر دیے۔ ایف سی پی ایس/ایم سی پی ایس اور ایم ایس/ایم ڈی پروگراموں میں نشستوں کی ، 5050 تقسیم کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زیرو ویکنسی میکانزم کے ذریعے خالی نشستوں کا فوری استعمال ممکن بنایا جائے گا۔
پالیسی، نصاب اور نشستوں کی تقسیم کی نگرانی کے لیے صوبائی پوسٹ گریجویٹ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں لازمی تربیتی روٹیشن نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پسماندہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والوں کو اضافی میرٹ ویٹیج دیا جائے گا۔ کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ منتخب امیدوار کے شامل نہ ہونے پر اگلے سیشن میں پابندی عائد ہوگی، دورانِ تربیت پروگرام چھوڑنے والے ریزیڈنٹس پر تین سیشنز کی پابندی ہوگی۔
صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق پروگرام ادھورا چھوڑنے والے ریزیڈنٹس کو تمام وظیفہ واپس کرنا ہوگا۔
سندھ سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ترمیمی ایکٹ 2026 کے مسودہ بل کی منظوری بھی دے دی گئی۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ کے لیے اہلیت کا معیار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر درِ ناز جمال کی ریٹائرمنٹ کے بعد ادارہ جاتی تسلسل برقرار رکھنے کے اقدامات کیے گئے۔
سندھ حکومت کے سیکریٹری کے عہدے کے لیے نئے قانونی معیار متعارف کروا دیا گیا، ایم بی بی ایس اور ہیماٹولوجی کے ماہرین کو بھی عہدے کے لیے اہل قرار دے دیا گیا۔
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکریٹری کی تقرری چار سال کے لیے ہوگی، مزید ایک مدت کی توسیع ممکن ہوگی۔ اب اہل امیدوار ایم بی بی ایس ڈگری کے ساتھ صحت کے شعبے میں کم از کم 20 سالہ تجربہ رکھتے ہوں یا ہیماٹولوجسٹ کے پاس انتظامی امور میں 12 سال اور بلڈ بینکنگ میں 5 سال سمیت مجموعی طور پر 17 سالہ تجربہ ہو۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق بل کو قانون و پارلیمانی امور کے محکمے کی جانچ کے بعد باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.