Native World News

ٹیکسز کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے خدشات کا اظہار کردیا

ٹیکسز کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے خدشات کا اظہار کردیا

کمیٹی کا کسٹمز سرٹیفکیٹ کی عدم تعمیل پر جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز پر اظہار تشویش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2026 پر غور کرتے ہوئے منصفانہ ٹیکس نظام اور ٹیکس دہندگان کے تحفظ پر زوردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ، وزیر مملکت برائے خزانہ، سیکریٹری خزانہ اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام سمیت قائمہ کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس میں فنانس بل 2026 کی شق وار جانچ کا عمل جاری رکھا گیا جبکہ اراکین کسٹمز اور سیلز ٹیکس قوانین میں مجوزہ ترامیم، ٹیکس انتظامی اصلاحات، جرمانوں کے نظام، نفاذ کے اختیارات اور ٹیکس تنازعات کے حل سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہ راست رابطے کو کم کرنے کے لیے فیس لیس ایڈجوڈیکیشن اور فیس لیس اپیلز متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے اسی طرح ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے الگورتھم پر مبنی نظام اور پیداوار کی نگرانی کو چار شعبوں سے بڑھا کر انیس شعبوں تک توسیع دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

کمیٹی نے ٹرمینل آپریٹرز پر کسٹمز سرٹیفکیٹ کی عدم تعمیل کی صورت میں جرمانہ پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز پر تفصیلی غور کیا اور ارکان نے اس اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور کاروباری ماحول میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

کمیٹی نے جرمانہ کم کر کے پچاس لاکھ روپے مقرر کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے ایک غیر جانبدار فورم قائم کرنے کی سفارش کی۔ اجلاس میں کسٹمز نیلامیوں کو تیسرے فریق کے ذریعے آؤٹ سورس کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

ارکان نے بندرگاہوں پر سامان کے انبار ختم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام آؤٹ سورسنگ انتظامات پیپرا قواعد کے مطابق اور مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جائیں اس مقصد کے لیے نیلامی کرنے والی کمپنیوں کے لیے پری کوالیفکیشن معیار مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔

کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضبط شدہ نان ڈیوٹی پیڈ اشیا کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے قبل کسٹمز حکام کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ارکان کا کہنا تھا کہ اس سے جاری تحقیقات اور عدالتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس حوالے سے مزید حفاظتی اقدامات شامل کرنے کی ہدایت کی ریٹیلر اسکیم پر گفتگو کے دوران ارکان نے اس کے طریقہ کار،ٹیکنالوجی، نفاذ اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ طلب کی جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں ارکان نے ایڈوانس ٹیکس،ودہولڈنگ ٹیکس اور کم از کم ٹیکس نظام پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور  کہا کہ محصولات کا بڑا حصہ پیشگی ٹیکس وصولیوں پر انحصار کرتا جا رہا ہے، جس سے کم منافع پر کام کرنے والے کاروباروں اور مالی مشکلات کا شکار ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی فنانس بل 2026 کے جائزے کے دوران ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ ایک زیادہ منصفانہ، شفاف اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ٹیکس نظام تشکیل دیا جا سکے

Source: https://www.express.pk/story/2817824/investment-affected-due-to-taxes-national-assembly-standing-committee-expresses-concerns-2817824/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.