اردو شاعری کی روح احساسات و جذبات کے شاعرانہ اظہار سے عبارت ہے
جی ہاں دل بھی کیا چیز ہے۔یہ سینے کے درمیان لیکن تھوڑا سا بائیں جانب،پھیپھڑوں کے عین درمیان واقع انسانی جسم کا سب سے اہم اور غالباً سب سے ٹف اور مضبوطOrganہے جو خون کو پورے جسم میں گردش کرواتا ہے۔یہ عموماً بند مُٹھی کے برابر سائز کا ہوتا ہے اور بنیادی طور پر چار حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جنھیں چیمبر کہا جاتا ہے۔دائیں ایٹریمRight Atrium جسم کے مختلف حصوں سےVeinsکے ذریعے آکسیجن سے خالی خون وصول کرتا ہے۔
دائیں وینٹریکلRight Ventricleخون کو پھیپھڑوں کی طرف بھیجتا ہے تا کہ وہ آکسیجن حاصل کرے۔بائیں ایٹریمLeft Atruimپھیپھڑوں سے آکسیجن بھرا خون حاصل کرتا ہے جب کہ بائیں وینٹریکلLeft Ventricle آکسیجن سے بھرے خون کو Artries کے ذریعے جسم میں پمپ کرتا ہے۔دل میں چار ہی والوز Valves ہوتے ہیں۔یہ والوز ٹرائی کس والو، پلمونری والو، مٹرل والو اور ٹک والو کہلاتے ہیں۔دل کا بظاہر بنیادی کام سرکولیشن آف بلڈ اور آکسیجن سپلائی ہے۔ یہ پھیپھڑوں کے ساتھ مل کر جسم سے کاربن ڈائی آکسائڈ جمع کر کے پھیپھڑوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ باہر جاتی سانس کے ذریعے خارج ہو جائے۔
دل کے ذریعے خون جسم کے مختلف حصوں تک غذائی اجزا Nutrientsکی ترسیل اور ہارمونز پہنچاتا ہے۔یہ جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھتا ہے۔دل کی کارکردگی اور باقاعدہ دھڑکن ہی زندگی کا تسلسل ہے۔یہ پیدائش سے موت تک بغیر رکے مسلسل کام کرتا ہے۔نیورو سائنس دانوں نے اب یہ دریافت کیا ہے کہ دل کے اندر ایک Complex nervous systemہے جسے دل کا دماغ کہا جاتا ہے۔دل کے ہاں 40ہزار سے پچاس ہزار نیورانزNeurans کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہSpecialized nerve cellsایک باقاعدہ نیٹ ورک بنا کے کام میں مگن رہتے ہیں۔اسے ntrinsic Cardiac nervous systemٰٰ کہا جاتا ہے۔نیورانز کے اسی نیٹ ورک کی بدولت دل پیچیدہ ترین انفارمیشن کو پراسس کرتا ہے ،دماغ کے ساتھ شیئر کرتا اور پراسس کرتا ہے۔
اردو شاعری کی روح احساسات و جذبات کے شاعرانہ اظہار سے عبارت ہے۔ان جذبات و احساسات کا سب سے گہرا اور پر اثر مظہر دل ہے۔ مختلف شعرائے کرام نے اس ایک لفظ دل کو اپنے ذاتی،مذہبی اور فلسفیانہ تجربات کے مطابق مختلف حوالوں اور مختلف معنوں میں برتا ہے۔دل کی داخلی دنیا کا سفر ایک عظیم سفر ہے۔یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان اپنے وجود اور خالق کو پہچانتا ہے۔دل کے بنیادی کام یعنی سرکولیشن آف بلڈ کو دیکھتے ہوئے کہا گیا کہ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو ایک قطرہ خون نکلا۔کبھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دل درد و رنج و الم سے بھر جاتا ہے۔
اس کیفیت کو اس طرح شاعر نے بیان کیا۔دل ہی تو ہے نہ سنگ و کشت،درد سے بھر نہ آئے کیوں۔ اگر کسی کے بارے میں کوئی ناراضگی،کوئی شکایت نہ ہو تو اس حالت و کیفیت کو دل کا صاف ہونا کہتے ہیں۔مخالف،حاسد اور دشمن کی ہرزہ سرائی سے اگر تکلیف پہنچ رہی ہو تو اس حالت کو دل کے زخمی ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔لارڈ بائرن اور کیٹس نے نقادوں کے نشتروں سے زخمی ہوتے دل کی کیفیت کو بارہا بیان کیا ہے۔اگر کسی سے پیار کا تعلق ختم ہو جائے تو دنیا اندھیر ہو جاتی ہے اور فرد پکار اٹھتا ہے کہ دل کیا اجڑا،دنیا اجڑی،روٹھ گئی ہیں بہاریں،ہم جیون کیسے گزاریں۔اگر پیار کا تعلق اچھا چلتے چلتے کم ہو جائے تو دل اداس رہنے لگتا ہے ،حالانکہ وہ اپنا بنیادی کام بخوبی کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی بتا نہیں سکتا کہ دل کیسے اداس ہوتا ہے جب کہ وہ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.