Native World News

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن کا امتحان

اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات ہمیشہ عالمی تشویش کا باعث رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ محض چند سیاسی فیصلوں، سفارتی رابطوں اور عسکری تحمل کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس خطے نے جن بحرانوں، جنگوں، پراکسی تنازعات اور جغرافیائی کشمکش کا سامنا کیا ہے، ان کے اثرات صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سلامتی کے ڈھانچے تک پھیل چکے ہیں۔

ایسے ماحول میں اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد حملوں کے رکنے اور محدود مدت کے لیے کارروائیاں معطل کرنے کی اطلاعات بظاہر ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتی ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ صورتحال مکمل امن کے قیام سے کہیں زیادہ ایک عارضی وقفے کی مانند ہے جس کے پیچھے متعدد غیر یقینی عوامل کارفرما ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ اسرائیل اور ایران کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس بحران کو فوری طور پر پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندیوں کا استحکام صرف بیانات اور اعلانات سے ممکن نہیں ہوتا۔ یہاں تنازعات کی جڑیں سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ نظریاتی کشمکش، سلامتی کے خدشات، علاقائی اثرورسوخ کی جنگ، پراکسی قوتوں کا کردار اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک ایسے پیچیدہ منظرنامے کو جنم دیتے ہیں جہاں وقتی خاموشی کو مستقل امن سمجھ لینا سیاسی خوش فہمی کے مترادف ہوگا۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات ہمیشہ عالمی تشویش کا باعث رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنے وجود اور سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں کو اپنے لیے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، جب کہ ایران اسرائیلی پالیسیوں کو خطے کے عدم استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل پامالی کا سبب سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی اختلافات اس کشیدگی کو وقتی جنگ بندیوں سے آگے بڑھ کر ایک مستقل تنازعے کی شکل دیتے ہیں۔

حالیہ صورتحال میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگرچہ ایران اور اسرائیل نے براہِ راست کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے، لیکن خطے کے دیگر محاذ بدستور سرگرم ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایات دی جا رہی ہیں اور حزب اللہ کے ساتھ تناؤ کم ہونے کے بجائے برقرار دکھائی دیتا ہے۔ ادھر یمن سے حوثی فورسز کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اب محض دو ریاستوں کے درمیان محدود نہیں رہے۔ ایک ملک میں پیدا ہونے والی کشیدگی چند گھنٹوں کے اندر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو صرف ایران اور اسرائیل کے تعلقات کے تناظر میں نہیں بلکہ پورے خطے کے اسٹرٹیجک ماحول کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، اگر لبنان، غزہ، شام، عراق اور یمن کے محاذ بدستور گرم رہتے ہیں تو کسی بھی وقت ایک محدود واقعہ بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ خطرناک عنصر غلط اندازوں اور غلط فہمیوں کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بڑی جنگیں پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایسے واقعات سے شروع ہوئیں جنھیں ابتدائی مرحلے میں معمولی سمجھا گیا تھا۔

امریکا اس بحران میں بیک وقت ثالث، فریق اور ضامن کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی ایسے معاہدے تک پہنچا جائے جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ایک ایسا معاہدہ قریب ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا، یقینااہم ہے، لیکن اس دعوے کی کامیابی کا انحصار صرف معاہدے کے متن پر نہیں بلکہ اس کے نفاذ، نگرانی اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔ ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے طے پائے، لیکن سیاسی تبدیلیوں اور باہمی عدم اعتماد نے انھیں دیرپا استحکام فراہم نہیں کیا۔

ایرانی قیادت کے بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہران اپنے موقف میں لچک دکھانے کے باوجود دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ ایران نے نہ میدان چھوڑا ہے اور نہ مذاکرات کی میز، دراصل اسی دہری حکمت عملی کا اظہار ہے جس میں سفارت کاری اور مزاحمت دونوں کو بیک وقت جاری رکھا جاتا ہے۔ ایران سمجھتا ہے کہ اگر وہ صرف مذاکرات پر انحصار کرے تو اس کی علاقائی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، جب کہ صرف عسکری راستہ اختیار کرنے سے عالمی تنہائی اور اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی لیے تہران ایک متوازن راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ادھر اسرائیل کی قیادت بھی مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔ بنیامین نیتن یاہو کے بیانات سے واضح ہے کہ تل ابیب ،ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف اپنی حکمت عملی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسرائیل کے نزدیک جنگ بندی کا مطلب خطرات کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک محدود وقفہ ہے۔ یہی سوچ مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے امکانات کو زندہ رکھتی ہے، جب دونوں فریق جنگ بندی کو مستقل امن کے بجائے حکمت عملی کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھیں تو اعتماد سازی کا عمل انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

اس بحران کا ایک انتہائی اہم پہلو عالمی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر وہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور افریقہ تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں اس بحران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی امید کا اظہار دراصل اسی معاشی حقیقت کا اعتراف ہے۔

چین کی تشویش بھی اسی تناظر میں قابلِ فہم ہے۔ بیجنگ مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے اور خطے میں استحکام اس کی اقتصادی حکمت عملی کے لیے ضروری ہے۔ چین، روس، یورپی ممالک اور دیگر عالمی قوتیں اس بحران کو اپنے اپنے زاویوں سے دیکھتی ہیں، لیکن ایک نکتہ تقریباً سب میں مشترک ہے کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور ہر فریق کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کر رہا ہے۔ایسے حالات میں پاکستان کا موقف خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جس انداز میں تحمل، بردباری اور سفارت کاری پر زور دیا ہے، وہ نہ صرف پاکستان کی روایتی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ موجودہ حالات کی ضرورت بھی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ مسئلہ صرف نظریاتی یا سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ قومی مفادات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں، پاکستان کی معیشت کا ایک اہم حصہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے وابستہ ہے اور توانائی کی ضروریات بھی بڑی حد تک اسی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔

اسلام آباد کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ یہی توازن موجودہ صورتحال میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان سمیت پورا خطہ معاشی ترقی، تجارتی تعاون اور علاقائی روابط کے نئے مواقع سے فایدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن اگر تنازعہ دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ فوجی طاقت تنازعات کو وقتی طور پر دبانے کی صلاحیت تو رکھتی ہے لیکن مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جنگیں نئے زخم پیدا کرتی ہیں، نئی دشمنیاں جنم دیتی ہیں اور امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس سفارت کاری اگرچہ سست، مشکل اور بعض اوقات مایوس کن محسوس ہوتی ہے، لیکن پائیدار امن کا راستہ بہرحال اسی سے نکلتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے عوام طویل عرصے سے جنگوں، عدم استحکام، نقل مکانی اور اقتصادی مشکلات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ نئی نسلیں ایک ایسے مستقبل کی متلاشی ہیں جس میں ترقی، روزگار، تعلیم اور خوشحالی کو ترجیح دی جائے، اگر علاقائی قیادتیں اس عوامی خواہش کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں تو شاید وہ دن دور نہیں جب خطہ مستقل تنازعات کی شناخت سے نکل کر تعاون اور ترقی کی نئی مثال بن سکے۔ تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے اعتماد سازی، سیاسی جرات، سفارتی بصیرت اور باہمی احترام پر مبنی ایک نئے علاقائی مکالمے کی ضرورت ہوگی۔

آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ حملے ایک ہفتے کے لیے رکتے ہیں یا دو ہفتے کے لیے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ فریق اس موقع کو مستقل سیاسی حل کی بنیاد بنانے کے لیے استعمال کریں گے یا اسے صرف اگلے تصادم سے پہلے کا وقفہ سمجھیں گے۔ اگر تاریخ کے اس لمحے سے دانش مندی کے ساتھ فایدہ اٹھایا گیا تو یہ جنگ بندی ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر پرانی دشمنیوں، عدم اعتماد اور طاقت کے استعمال کی پالیسیوں کو برقرار رکھا گیا تو موجودہ خاموشی محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگی اور خطہ ایک بار پھر ایسے بحران کی طرف لوٹ سکتا ہے جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں سے بہت دور تک محسوس کیے جائیں گے۔

Source: https://www.express.pk/story/2816777/mashriq-e-wusta-mein-jang-bandi-aur-aman-ka-imtehan-2816777/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.