لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے پنجاب کے ڈرگ ڈیلرز کی فہرست طلب کر لی ہے
کراچی سے گرفتار انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں ہلچل مچ گئی ہے۔ لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے پنجاب کے ڈرگ ڈیلرز کی فہرست طلب کر لی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق انمول پنکی کیس میں پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ پنکی کے پنجاب میں ڈرگز ڈیلرز سے متعلق انکشافات بھی لاہور پولیس کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے مقدمات کی تفتیش کے لیے کراچی پولیس سے بھی تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کو ملزمہ انمول پنکی کے بیانات اور منشیات ریکٹ کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔ انمول پنکی کو 2024 میں اس وقت کے پولیس نارکوٹکس یونٹ نے لاہور میں گرفتار کیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ کو 10 سے 15 دن تک سی آئی اے کوتوالی میں رکھا گیا، جہاں دورانِ حراست ایس پی خود جا کر اس سے تفتیش کرتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست ایک انسپکٹر رینک کے پولیس افسر نے انمول پنکی سے قربت اختیار کی۔
ذرائع کے مطابق اسی تعلق اور مالی ڈیل کی وجہ سے ملزمہ کو گرفتار کرنے یا مقدمہ درج کرنے کے بجائے چھوڑ دیا گیا، جبکہ پولیس افسر نے بعد ازاں انمول پنکی سے شادی بھی کر لی اور 2025 میں ریٹائرڈ ہو گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ پولیس افسر نے ملزمہ کا کریمنل ریکارڈ بننے سے روکنے کی کوشش کی اور دورانِ سروس کروڑوں روپے کی ڈیلز بھی کروائیں۔ ذرائع کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ انمول پنکی کے منشیات نیٹ ورک میں معاونت کرتا رہا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انمول پنکی لاہور کے فارم ہاؤسز پر گرینڈ پارٹیاں کرتی رہی، جن میں بعض پولیس افسران اور منشیات کے عادی امیر افراد بھی شریک ہوتے رہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق انمول پنکی کا ریکٹ کراچی سے لاہور تک آپریٹ کرتا رہا، جبکہ لاہور میں منشیات کے خلاف گرینڈ کریک ڈاؤن کے بعد ملزمہ کے نیٹ ورک نے اپنی سرگرمیاں کراچی تک محدود کر دیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.