غزہ سے حراست میں لیے گئے بیشتر فلسطینیوں کی بھلے عمر اور جنس کچھ بھی ہو ، کہانی کم و بیش وہی ہے جو محمد زکی البکری نے اپنے بارے میں سنائی۔
خان یونس کے محمد زکی البکری کو ان پانچ عقوبت خانوں کے نام تو یاد نہیں ہیں جہاں اس نے بیس ماہ گذارے۔البتہ وہ خونخوار تربیت یافتہ کتوں کی شکلیں اور ان کتوں کو قیدی پر چھوڑنے والے محافظوں کے قہقہوں اور طنزیہ جملوں کا نقشہ ضرور کھینچنے کے اب تک قابل ہے۔
’’تن پر کوئی کپڑا نہیں چھوڑا گیا۔آنکھوں پر مستقل موٹی سی پٹی بندھی رہتی۔ بازوؤں کو کمر کے پیچھے کر کے ہتھکڑی لگاتے اور پیروں میں اتنے آہنی بھاری کڑے ڈالتے کہ دونوں ٹانگیں ہمہ وقت چوڑی رہیں۔ شائد ہم سات قیدی ایک ساتھ رکھے گئے۔ ہم پر وہ کسی بھی وقت کتے چھوڑ سکتے تھے۔ جب چاہتے ڈنڈوں اور سلاخوں سے ریپ کر سکتے تھے۔ پھر ایک ایک منظر کی ویڈیو بھی بناتے تھے۔ شائد اپنے لیے یا شائد اوپر والوں کو دکھانے کے لیے یا شائد ریکارڈ میں رکھنے کے لیے ‘‘۔
غزہ سے حراست میں لیے گئے بیشتر فلسطینیوں کی بھلے عمر اور جنس کچھ بھی ہو ، کہانی کم و بیش وہی ہے جو محمد زکی البکری نے اپنے بارے میں سنائی۔
فلسطینیوں پر کتوں کا استعمال بھی نیا نہیں۔ جولائی دو ہزار تئیس کے ایک دن چند اسرائیلی فوجی الخلیل ( ہیبرون ) میں اجلونی خاندان کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر گھس گئے۔ان کے ساتھ خونخوار کتے تھے۔ منڈلی میں شامل خواتین فوجیوں نے گھر کی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ تلاشی کے لیے سب کپڑے اتار کر چل کے دکھائیں ورنہ یہ کام ان کے کتے کریں گے۔ فلسطینیوں کو اندر سے توڑنے اور اپنی ہی نظروں میں نیچا یا نیم انسان محسوس کرانے کے سیکڑوں طریقوں میں سے یہ صرف ایک دو طریقے ہیں۔
بچے اور خواتین رہائی کے بعد بھی مارے شرم کے پوری طرح نہیں بتا پاتے کہ جیل کی چار دیواری میں ان پر کیا بیتی۔یہ وہ نفسیاتی گھاؤ ہے جو مرتے دم تک کسی بھی نارمل انسان کو غصے ، بے بسی ، جھنجلاہٹ اور شدید ڈیپریشن کی شکل میں زندہ لاشوں میں بدل سکتا ہے ۔ وہ الگ بات کہ بین الاقوامی قوانین کی کتابوں میں اہلکاروں کے ہاتھوں کسی قیدی کا انفرادی و اجتماعی ریپ انسانیت سوز جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’’ ادامیر پرزنرز سپورٹ ‘‘ کے مطابق اس سال اپریل تک چوراسی خواتین اور تین سو بیالیس بچوں سمیت نو ہزار چھ سو فلسطینی قیدی جیلوں میں ہیں۔ان میں سے تین ہزار پانچ سو بتیس بنا فردِ جرم قید ہیں۔ بس اتنا کھانا ملتا ہے کہ مر نہ جائیں۔ایک نارمل انسان کو روزانہ اکیس سو کیلوریز درکار ہیں مگر فلسطینی قیدیوں کو اوسطاً آٹھ سو کیلوریز فراہم کی جاتی ہیں۔
نیند سے محروم رکھنا تو ایک عام سی سزا ہے۔قیدیوں کو بروقت طبی امداد دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔سردیوں کی راتوں اور گرمیوں کی تپتی دوپہر میں انکے ہاتھ پاؤں کس کے سیل کے باہر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور یہ سب انفرادی ہتھکنڈے نہیں بلکہ باقاعدہ ریاستی پالیسی ہے۔
اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ جون انیس سو سڑسٹھ میں مغربی کنارے اور غزہ پر فوجی قبضے سے دو ہزار چھ میں دوسرے مزاحمتی انتفادہ کے خاتمے تک آٹھ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو حراست کا تجربہ ہوا۔اگر دو ہزار چھ تا چھبیس کے بیس برس کو بھی جوڑ لیا جائے تو یہ تعداد لگ بھگ پندرہ لاکھ بنتی ہے۔یعنی کوئی فلسطینی پیڑھی ایسی نہیں جس نے قید کا مزہ نہ چکھا ہو۔
ان فلسطینیوں کو کہیں بھی زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔بھلے وہ سدی تیمان کا فوجی عقوبت خانہ ہو یا اوفر ، نجف یا عشکلان کی بڑی جیلیں ہوں یا درجنوں گمنام تفتیشی مراکز ہوں یا پھر مقبوضہ علاقے میں پھیلی سیکڑوں چیک پوسٹوں سے لگے حفاظتی احاطے۔ سب جگہ تشدد ہے ، کتے ہیں ، ریپ کی دھمکیاں اور ریپ کی وارداتیں ہیں۔
اسرائیل کا محکمہ جیل قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کے تحت ہے۔جو بذات خود ایک نسل پرست نفسیاتی مریض ہے اور متعدد یورپی ممالک نے اس پر سفری پابندی عائد کر رکھی ہے۔
قید کا نظام ایک جال کی طرح ہے۔عموماً فوج اور پولیس حراست میں لیتی ہے ، انٹیلی جینس افسر پوچھ گچھ کرتے ہیں ، جیل کے محافظ نگرانی کرتے ہیں ، مقدمہ فوجی عدالت میں چلتا ہے اور بریت کا فیصلہ سویلین پراسکیوشن کا محکمہ کرتا ہے۔
اگر اس تادیبی زنجیر کی کسی ایک کڑی کے خلاف شکائیت بھی کی جائے تو کس سے کی جائے ؟ ہر محکمہ دوسرے کی جانب انگلی اٹھا دیتا ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ جن پانچ اسرائیلی محافظوں پر سدی تیمان کے فوجی کیمپ میں متعدد فلسطینیوں کو ریپ کرنے کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی انھیں اب سے چار ماہ قبل ( مارچ دو ہزار چھبیس ) ناقص ثبوتوں کی بنیاد پر باعزت بری کر دیا گیا۔ جس خاتون میجر جنرل نے اس ریپ کی وڈیو لیک کی اسے نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ خود وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ریپ کے جرم کی مذمت کرنے کے بجائے وڈیو لیکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی تاریخ کا سب سے افسوسناک سانحہ قرار دیا۔
گذشتہ ماہ غزہ خوراک لے جانے والے امن فلوٹیلا پر سوار پینتالیس ممالک کے ساڑھے چار سو بین الاقوامی رضاکاروں کو حراست میں لیے جانے کے بعد وزیرِ قومی سلامتی بین گویر کی موجودگی میں جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی وڈیو بین گویر نے فخریہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شئیر کی۔جب دنیا بھر میں تھو تھو ہوئی تو نیتن یاہو نے اس تشدد کی مذمت کرنے کے بجائے وڈیو کی تشہیر کو ’’ اسرائیلی روایات کے منافی ‘‘ قرار دیا۔تاہم بین گویر آج بھی نیتن یاہو کی کابینہ کا حصہ ہے۔
اسرائیل ٹارچر اور ریپ کے بارے میں تمام گواہیوں کو ’’ یہود دشمن الزامات ‘‘ قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی کوئی عالمی تنظیم تو رہی ایک طرف خود اقوام متحدہ کی کوئی ٹیم یا عالمی ریڈکراس کا حقائق جو وفد کسی نظربندی مرکز کا دورہ کرنا چاہے تو بھی اجازت نہیں ہے اور سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے تو ایسا کوئی بھی دورہ ناممکن ہو گیا ہے۔
تمام تر رکاوٹوں کے باوجود دستاویزات ، بصری مواد ، ذاتی شہادتوں اور کچھ نیم باضمیر سرکاری اہلکاروں کے آڈیو وڈیو اعترافات کی شکل میں انسانی حقوق کے اداروں کے پاس کم ازکم اتنا مواد ضرور جمع ہو چکا ہے کہ انسانیت سوز جرائم کی سماعت کرنے والے کسی بھی بین الاقوامی ٹریبونل میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیا ایسا کوئی ٹریبونل کبھی بنے گا جس کے کٹہرے میں اسرائیلی جنگی مجرم بھی کھڑے ہو سکیں ؟
( اس بابت تفصیلی تحقیقی دستاویزی فلم دیکھنی ہو تو الجزیرہ کی ’’ باڈیز آف ایویڈنس ، اسرائیلز ڈارکسٹ ویپن ‘‘ یو ٹیوب پر موجود ہے )۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.