Native World News

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

تحقیق میں 15 سے 45 سال عمر کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حمل کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مائیگرین کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا حمل کے ابتدائی مہینوں میں حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

کیلسیٹونِن جین-ریلیٹڈ پیٹائیڈ (سی جی آر پی) مونو کلونل اینٹی باڈیز کہلائی جانے والی یہ یہ ادویات انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہیں اور مائیگرین کے تقریباً 50 فی صد مریضوں میں اٹیک کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں بعض ماہرین ’ونڈر ڈرگ‘ بھی قرار دیتے ہیں۔

تاہم، حال ہی میں امیریکن ہیڈ ایک سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر یہ ادویات حمل کے ابتدائی مرحلے میں استعمال کی جائیں تو حمل ضائع ہونے کا خطرہ 45 فی صد تک بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں 15 سے 45 سال عمر کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حمل کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تمام خواتین کو حمل سے پہلے مائیگرین کی تشخیص ہو چکی تھی۔

محققین نے خواتین کو تین گروپوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جو سی جی آر پی مونوکلونل اینٹی باڈی انجیکشن استعمال کر رہی تھیں، وہ جو پروپرینولول استعمال کر رہی تھیں اور اور وہ جو کوئی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حمل کے 8 سے 12 ہفتوں کے دوران سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح دیگر گروپوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح تقریباً 2 فی صد تھی جبکہ سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں یہ شرح 5 فی صد تک پہنچ گئی۔

Source: https://www.express.pk/story/2817520/popular-migraine-drugs-linked-to-miscarriages-2817520

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.