اسرائیلی کارروائیوں میں عام شہریوں کی جانوں کا نقصان زیادہ ہورہا ہے، امریکی صدر برہم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ اب ضرورت سے زیادہ طویل ہوچکی ہے جس میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے جا رہے ہیں۔
انھوں نے اسرائیلی فوج کے سیکیورٹی آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مطلوب شخص کی تلاش میں پورے رہائشی اپارٹمنٹ ہی کو تباہ کرنا درست نہیں کیونکہ وہاں رہنے والے تمام افراد حزب اللہ کے ارکان نہیں ہوتے۔
امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ لبنان اور حزب اللہ کے معاملے میں اسرائیل کے طرزِ عمل سے خوش نہیں ہیں۔ اسرائیل کو یہ کارروائی کہیں زیادہ تیزی سے مکمل کر لینی چاہیے تھی لیکن جنگ کے مسلسل طول پکڑنے سے ایران معاہدے پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خاص طور پر اتوار کو بیروت کے جنوبی علاقے پر اسرائیلی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل لبنان میں حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ میں نے اسرائیلی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی شام کو کرنے دی جائے۔ شام کے صدر احمد الشرع اس کام کو زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں کیوں کہ شامی صدر نے اب تک میری توقعات کے مطابق کام کیا ہے اور وہ ایک قابل رہنما ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ میری کوششوں سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم ہوئی اور دونوں فریقوں نے حملوں میں کمی پر آمادگی ظاہر کی تھی اگرچہ زمینی صورتحال میں مکمل جنگ بندی برقرار نہیں رہ سکی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ وہ حزب اللہ کے خطرے کے خاتمے تک لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گی۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لبنان میں قائم سکیورٹی زونز کو برقرار رکھا جائے گا اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا، ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز تر ہیں۔ ٹرمپ متعدد بار اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.