متاثرہ قیدی نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض مواقع پر کتوں کو بھی قیدیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
الجزیرہ کی ایک نئی تحقیقاتی دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ منظم انداز میں جنسی تشدد، ریپ اور جسمانی اذیت کے واقعات پیش آئے۔ فلم میں سابق قیدیوں کے بیانات شامل ہیں، جنہوں نے اپنی حراست کے دوران مبینہ تشدد اور جنسی زیادتیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
فلم کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم، جس کی شناخت البکری کے نام سے کی گئی، نے بتایا کہ اپریل 2024 میں عیدالفطر کے دوران انہیں دیگر قیدیوں کے ساتھ برہنہ کرکے، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھ باندھ کر رکھا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی جبکہ محافظ ہنس رہے تھے اور ویڈیوز بھی بنا رہے تھے۔ البکری نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض مواقع پر کتوں کو بھی قیدیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
الجزیرہ کی دستاویزی فلم ’’باڈیز آف ایویڈینس: اسرائیل ڈارکسٹ ویپن‘‘ میں متعدد سابق فلسطینی قیدیوں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ فلم میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ججوں، اقوام متحدہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیزے سمیت مختلف اداروں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کے منظم استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی انسانی حقوق مرکز (PCHR) اور یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر سمیت متعدد تنظیموں نے بھی ایسے بیانات جمع کیے ہیں جن میں قیدیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے دوران کتوں کو بھی استعمال کیا گیا۔
الجزیرہ کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزامات کئی دہائیوں سے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔ مارچ 2025 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی اسرائیل پر جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے ’’منظم استعمال‘‘ کے شواہد ملنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مئی 2025 میں اسرائیل کو اقوام متحدہ کی ان فہرستوں میں بھی شامل کیا گیا جن میں تنازعات کے دوران جنسی تشدد سے متعلق خدشات رکھنے والے فریقین کا ذکر کیا جاتا ہے۔
فلم میں ایک اور سابق قیدی، جسے ’جاب‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا، نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اسے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اس کے مطابق اس دوران اس سے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، حالانکہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
فلم میں شامل اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیزے کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کا مقصد صرف جسمانی اذیت دینا نہیں بلکہ متاثرہ شخص کی شخصیت، ذہنی حالت اور عزتِ نفس کو تباہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جنسی تشدد اور ریپ انسان کی نفسیاتی بحالی اور ذاتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جولائی 2024 میں اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع ڈیٹینشن کیمپ سے ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد 10 اسرائیلی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں ان کے خلاف تمام الزامات واپس لے لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیو لیک کرنے والی خاتون افسر میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
دستاویزی فلم میں اسرائیلی معاشرے میں فلسطینیوں کے بارے میں پائے جانے والے رویوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض ماہرینِ سماجیات اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ فلسطینیوں کو غیر انسانی انداز میں پیش کیے جانے سے ان کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کرنے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
رپورٹ میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع یاؤ گیلنٹ، وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرک اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے بعض متنازع بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جنہیں ناقدین فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
الجزیرہ کی تحقیق میں شامل ماہر قانون ٹریسٹینو میرینیلو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق انفرادی نوعیت کے جنسی تشدد اور منظم، وسیع پیمانے پر ہونے والے جنسی جرائم میں فرق کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسے اقدامات ریاستی یا ادارہ جاتی سطح پر منظم انداز میں کیے جائیں تو وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو اب تک غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں مبینہ جنسی تشدد کے الزامات پر کسی بین الاقوامی ادارے کی جانب سے قانونی سزا یا پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جبکہ اقوام متحدہ سمیت مختلف اداروں کی جانب سے تحقیقات کی بعض کوششوں کو بھی اسرائیل نے مسترد یا محدود کیا۔
فلم کے اختتام پر فرانسیسکا البانیزے کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام اب بھی اپنی شناخت، وجود اور حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر جنسی تشدد اور تشدد کے دیگر طریقے کسی بھی معاشرے کو گہرے زخم دے سکتے ہیں اور اس کے طویل المدتی اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.