Native World News

یونس خان کو سنبھالے گا کون؟

یونس خان کو سنبھالے گا کون؟

یونس خان سے ڈیل کرنا بہت مشکل کام ہے

چپراسی کمرے میں داخل ہوا اور شہریارخان  سے کہا ’’ سر یونس خان صاحب آپ سے ملاقات کیلیے آئے ہیں‘‘ چیئرمین پی سی بی اس وقت کسی اور کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے لہٰذا جواب دیا کہ ’’ انھیں 5 منٹ انتظار کرنے کا کہو میں بلواتا ہوں‘‘ یہ پیغام جب یونس خان کو دیا گیا تو وہ غصے سے آگ بگولا ہو گئے، ’’ میں پاکستانی ٹیم کا کپتان ہوں اور مجھے انتظار کرنے کا کہہ رہے ہیں‘‘۔

قذافی اسٹیڈیم کے گراؤنڈ فلور پر اس وقت میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے، ان کے سامنے یونس خان نے کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا ، بورڈ نے مجبوری میں آخری لمحات میں چیمپئنز ٹرافی 2006کیلیے محمد یوسف کو قیادت سونپ دی،شہرخان خان نے بھی کچھ عرصے بعد استعفیٰ دے دیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں فتح کے باوجود سخت رویے کی وجہ سے ساتھی کرکٹرز کی بغاوت،2015 میں ٹیم میں واپسی کے بعد سیریز کا محض ایک میچ کھیلنے کے بعد ون ڈے سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان، اکیڈمی   میں مدثر نذر کا  کمرہ دیئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کوچنگ کورس چھوڑ کر چلے جانا، سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹیگری  نہ ملنے پر ’’ کیا خود کو گولی مار لوں‘‘والا مشہور زمانہ جملہ، بیٹنگ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ ،حسن علی سے لڑائی، یہ محض چند مثالیں ہیں۔

پاکستان کیلیے یونس خان نے کرکٹ میں جتنے کارنامے سرانجام دیے اتنے ہی تنازعات  ان سے منسلک ہیں، پی سی بی کے کئی سابق سربراہان کا یہی کہنا تھا کہ ’’ یونس خان سے ڈیل کرنا بہت مشکل کام ہے‘‘ اب بورڈ  ایک بار پھر انھیں کوئی ذمہ داری سونپنے پر غور کر رہا ہے تو سوال یہی اٹھتا ہے کہ ’’ انھیں سنبھالے گا کون‘‘ اگر وہ کسی بات پر ناراض ہو کر چلے گئے تو منائے گا کون۔

ایک حل یہ ہے کہ جو صاحب انھیں بورڈ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو ہی ٹیم منیجر بنا دیں وہ حکام اور یونس کے درمیان رابطے کا کام بھی سنبھال لیں گے لیکن شاید کرکٹرز اس سے خوش نہ ہوں، دیکھتے ہیں حکام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

ہم میں سے کچھ لوگوں کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند، ایماندار، دبنگ اور نجانے کیا کچھ سمجھتے ہیں،انھیں لگتا ہے کہ ہر معاملے میں سب سے زیادہ وہی جانتے ہیں، دوسرے کی اہمیت ان کے نزدیک کچھ نہیں ہوتی،  وہ انا کے غلام ہوتے ہیں، ایسے میں کب کوئی بات بری لگ جائے اور وہ سخت ردعمل دے دیں کوئی نہیں جانتا۔

یونس خان بلاشبہ پاکستانی کرکٹ تاریخ کے چند بہترین سابق اسٹارز میں شامل ہیں لیکن اپنے انداز کی وجہ سے انھوں نے دوست کم بنائے، کبھی تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ پورا بورڈ انھیں تلاش کر رہا ہوتا تھا اور وہ موبائل فون آف کر کے مچھلیاں پکڑنے چلے جاتے تھے۔

اب ایسی صورتحال میں کیا کرنا ہوگا یہ بورڈ کو پہلے سوچنا چاہیے، ان کا تجربہ یقینی طور پر نوجوان کرکٹرز کے نام آ سکتا ہے لیکن کوئی کام سونپتے وقت یہ طے کرلینا مناسب ہو گا کہ ان کی ڈومین کیا ہوگی، وہ کس کے ساتھ رابطہ کریں گے، لاہور کی اکیڈمی میں کمرا کون سا ملے گا وغیرہ وغیرہ، عوام میں یونس خان کا امیج بہت اچھا ہے، بلاشبہ انھوں نے کرپشن سے دور رہتے ہوئے اس حوالے سے بے داغ کیریئر گذارا۔

شائقین چاہتے ہیں کہ یونس پاکستان ٹیم کے ساتھ منسلک ہوں لیکن اس کیلیے انھیں خود کو بھی بدلنا ہوگا، انا کو گھر چھوڑ کر لاہور آئیں اور صرف پاکستان کرکٹ کی بہتری کا سوچیں، شاید اس دوران کچھ باتیں ناگوار بھی گذریں لیکن انھیں درگزر کرتے ہوئے آگے چلیں۔

پی سی بی کو بھی ان کا استعمال دیکھ بھال کر کرنا چاہیے، شاید وہ آ کر قومی ٹیم کی کارکردگی میں کچھ بہتری لے آئیں۔

اطلاعات یہی ہیں کہ یونس کو ٹیسٹ کوچ بنایا جا سکتا ہے، اگر انھیں یہ پوسٹ ملی تو کرکٹرز کے ساتھ بھی دوستانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا، حد سے زیادہ سختی معاملات بگاڑ دیتی ہے، اسی طرح محمد حفیظ  کی بھی بورڈ میں آنے کیلیے بات چیت چل رہی ہے،چند برس قبل چیئرمین کی تبدیلی کے بعد جب انھوں نے ٹیم ڈائریکٹر کی پوسٹ چھوڑی تو پھر حکام کیخلاف کڑی تنقید کرتے رہے، اس دوران آہستہ آہستہ وہ آئیسولیٹ ہونے لگے تو پھر ایک دوست کام آئے اور اب معاملات درست کر لیے ہیں۔

حفیظ کو کرکٹ کی سمجھ تو ہے لیکن لوگوں نے پروفیسر پروفیسر کہہ کہہ کر انھیں اتنا پکارا کہ اب انھیں لگنے لگا ہے کہ ان سے زیادہ معاملات کو کوئی نہیں سمجھتا ، وہ بولڈ انسان ہیں اور ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جنھیں دوسرے کرتے ہوئے شاید کئی بار سوچیں  جیسے ماضی میں بعض پلیئرز کے  بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی تھی، اب بھی وہ ملکی کرکٹ کیلیے بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن انھیں بھی اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یونس اور حفیظ دونوں ہی ملکی کرکٹ کے ساتھ مخلص ہیں اور کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کیلیے ضروری ہے کہ سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائیں اور ایک نئے دور کا آغاز کریں، بورڈ یہی چاہتا ہے کہ اچھی ساکھ کے حامل سابق کرکٹرز کو ذمہ داریاں سونپی جائیں تاکہ وہ ملکی کرکٹ کو درست ٹریک پر لا سکیں، اب یہ  سابق اسٹارز کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ چیک پر لکھی رقم  دیکھنے کے ساتھ قومی ٹیم کی پرفارمنس بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں۔

بدقسمتی سے ہمارے سابق کھلاڑیوں نے ملک کیلیے کچھ نہیں کیا، اب بھی باتوں سے گذارا ہے، بورڈ میں نوکری مل جائے تو سب اچھا نہ ملے تو تنقید،حد تو یہ ہے کہ ٹیم نے آسٹریلیا کو ہرا دیا تب بھی ناقدین چپ نہ ہوئے۔

بھارت نے آئی پی ایل میں کمنٹری پر پابندی لگائی تو کچھ کے دورے اور ڈالرز بند ہوئے بعد میں پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگی تو کچھ سابق کرکٹرز کی دکانیں ہی بند ہو گئیں،پہلے وہ کوہلی اور روہت کا چورن بیچا کرتے تھے اب بیچارے ریلیونٹ رہنے کیلیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، البتہ یونس اور حفیظ ایسے معاملات سے دور ہی رہے ہیں، جہاں سب کو آزما لیا ان کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817437/who-will-take-care-of-younis-khan-2817437/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.