حملوں میں قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے
تہران: ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے مبینہ میزائل حملوں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایرانی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو میں مختلف میزائلوں کی لانچنگ اور اہداف کی جانب پیش قدمی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حملوں میں قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ان حملوں کا ہدف تھیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
ایران نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین، مفادات اور فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید سخت ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔
💥 Explosions have been reported following Iran’s ballistic missile attacks toward US bases in Bahrainpic.twitter.com/hLBR9Zcdb7
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں تاکہ کسی بڑے علاقائی تصادم سے بچا جا سکے۔
Footage shows the firing of Qadr, Emad,. Kheibar Shekan long-range solid and liquid-fuel missiles at American targets in the region, responding to Wednesday morning's attack.pic.twitter.com/3BQ8C3Jbuo
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.