Native World News

جنوبی کوریا؛ سابق خاتونِ اوّل کو قیمتی تحائف بطور رشوت لینے پر قید اور جرمانے کی سزا

جنوبی کوریا؛ سابق خاتونِ اوّل کو قیمتی تحائف بطور رشوت لینے پر قید اور جرمانے کی سزا

سابق صدر پہلے ہی بغاوت اور مارشل لا نفاذ پر عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں

جنوبی کوریا کے سابق صدریون سک یول کو 15 سال قید کے بعد ان کی اہلیہ سابق خاتونِ اوّل کو بیش بہا تحائف بطور رشوت لینے پر 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق خاتونِ اوّل کم کیون ہی کو قیمتی تحائف بطور رشوت وصول کرنے اور اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے سرکاری و کاروباری فوائد دلوانے کے جرم میں 7 سال قید اور 32 ہزار پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا۔

سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے قرار دیا کہ کم کیون ہی نے خاتونِ اول کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں، پارلیمانی عہدے اور کاروباری سہولتیں دلوانے کے بدلے مہنگے تحائف وصول کیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر کی اہلیہ کے منصب پر فائز شخص سے غیر معمولی احتیاط اور خود احتسابی کی توقع کی جاتی ہے تاہم ملزمہ نے اس ذمہ داری کو نظر انداز کرتے ہوئے بار بار اپنے اثر و رسوخ کے بدلے قیمتی تحائف قبول کیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کم کیون ہی نے اپنے شوہر کے دورِ صدارت میں وین کلیف اینڈ آرپلز کا ہیرے کا ہار، ٹفنی کا بروچ، ڈیور کا لگژری ہینڈ بیگ، گراف کے ہیروں کے کانٹے، سونے کے کچھوے کے مجسمے کا خصوصی کیس، معروف کوریائی مصور لی اوفان کی پینٹنگ اور تقریباً 19 ہزار پاؤنڈ مالیت کی واشرون کانسٹنٹن گھڑی سمیت متعدد قیمتی تحائف وصول کیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق خاتونِ اوّل نے بلا جھجھک ایسی رشوتیں قبول کیں جو عام لوگ پوری زندگی میں شاید کبھی نہ دیکھ سکیں جس سے عوام کا سرکاری تقرریوں کے منصفانہ نظام پر اعتماد مجروح ہوا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک نے اپنے داماد کو سرکاری عہدہ دلوانے کی غرض سے قیمتی تحائف دیے۔ ایک پادری نے اعلیٰ حکام تک رسائی بڑھانے کے لیے تحائف پیش کیے جبکہ روبوٹک ڈاگ فروخت کرنے والی کمپنی کے سربراہ نے صدارتی سیکیورٹی ٹیم کو اپنی مصنوعات فراہم کرنے کی کوشش کے لیے تحائف دیے۔

سابق اوّل کم کیون ہی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کے خلاف شواہد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

یہ کم کیون ہی کی پہلی سزا نہیں۔ انھیں رواں سال اپریل میں بھی شیئر قیمتوں میں ہیرا پھیری اور متنازع یونیفیکیشن چرچ سے رشوت لینے کے مقدمے میں 4 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ گزشتہ سال اگست میں گرفتاری کے بعد سے وہ کئی مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔

کم کیون ہی کے شوہر اور جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول بھی سنگین قانونی بحران کا شکار ہیں۔

انھوں نے 2024 کے آخر میں سیاسی بحران کے دوران ہنگامی طور پر مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جسے پارلیمنٹ نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔

عوامی احتجاج اور سیاسی دباؤ کے بعد ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں انھیں صدارتی منصب سے معزول کر دیا گیا۔

بعد ازاں یون سک یول کو گرفتار کر کے بغاوت، آئین شکنی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت متعدد الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالت نے انھیں مارشل لا نافذ کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی جبکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

یوں جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک سابق صدر عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بھی بدعنوانی اور رشوت ستانی کے مقدمات میں جیل میں ہیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2819360/south-korea-first-lady-sentenced-prisoned-on-bribe-case-2819360

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.