Native World News

گرمی بڑھتے ہی مزاج کیوں بگڑ جاتا ہے؟ ماہرین نے غصے اور جھگڑوں کی سائنسی وجہ بتادی

گرمی بڑھتے ہی مزاج کیوں بگڑ جاتا ہے؟ ماہرین نے غصے اور جھگڑوں کی سائنسی وجہ بتادی

موسم کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ انسانی برداشت اور جذباتی توازن متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے

شدید گرمی کے دنوں میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معمولی باتیں بھی بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ گھر ہو یا دفتر، لوگوں کے مزاج میں چڑچڑا پن، بے صبری اور غصے کی شدت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف رویوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سائنسی اور نفسیاتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

نفسیات کے ماہرین کے مطابق موسم کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ انسانی برداشت اور جذباتی توازن متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ معاملات بھی تنازع کا باعث بن جاتے ہیں جنہیں عام حالات میں آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین اس رجحان کو ’’ٹمپریچر اگریشن تھیوری‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، جس کے مطابق شدید گرمی انسان کے اندر بے چینی، مایوسی اور اشتعال میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جسم مسلسل گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہو تو ذہنی تھکن بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص پہلے ہی مالی مشکلات، کام کے دباؤ یا ذاتی مسائل سے دوچار ہو تو گرم موسم اس کی ذہنی کیفیت کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ یوں معمولی باتیں بھی شدید ردعمل کا باعث بننے لگتی ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بلند درجہ حرارت اور جارحانہ رویوں کے درمیان تعلق موجود ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق گرمی کے باعث جسم سے زیادہ پسینہ خارج ہوتا ہے، جس سے پانی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی رات کے آرام اور نیند کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب نیند پوری نہ ہو اور جسم مسلسل تھکن کا شکار رہے تو انسان کی جذباتی برداشت کم ہو جاتی ہے اور وہ جلد غصے میں آ سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف دن کی گرمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ رات کے وقت درجہ حرارت کا بلند رہنا بھی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر رات کو جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کا موقع نہ ملے تو اگلے دن چڑچڑے پن، بے سکونی اور ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ باقاعدگی سے پانی پینا، ٹھنڈی اور ہوا دار جگہ پر وقت گزارنا، اور غصے کی حالت میں فوری ردعمل دینے کے بجائے چند لمحے خاموش رہنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی بذاتِ خود تمام جھگڑوں کی وجہ نہیں بنتی، لیکن یہ انسان کو زیادہ حساس، تھکا ہوا اور جذباتی ضرور بنا دیتی ہے۔ اسی لیے اگر شدید گرمی میں کسی بات پر اختلاف پیدا ہو جائے تو فوری ردعمل دینے کے بجائے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بعض اوقات مسئلہ افراد سے زیادہ موسم پیدا کر رہا ہوتا ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817993/why-does-mood-deteriorate-as-the-temperature-rises-experts-reveal-the-scientific-reason-for-anger-2817993/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.