امریکا نے اپنی طاقت دکھائی لیکن اپنی مشکلات بھی بڑھائیں
جنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں فتح کا اعلان تو ہو جاتا ہے مگر اصل فاتح کا تعین تاریخ کرتی ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ تصادم کے بعد بھی یہی سوال پوری شدت سے موجود ہے: آخر اس جنگ میں کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
اس جنگ میں بظاہر امریکا، اسرائیل اور ایران نے اپنی فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ امریکا نے اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا۔
اسرائیل نے یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے دفاع کے نام پر خطے میں دور تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ ایران نے 47 سالہ پابندیوں کے باوجود حیران کن دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جو اس بات کی علامت ہے کہ ایرانی قوم نہ صرف یہ کہ اندرونی طور پر متحد اور پر عزم ہے بلکہ وہ امریکا جیسی بڑی سپرطاقت اور اسرائیل کی جارحانہ عزائم کے اگے سرنگوں ہونے کو کسی بھی طرح تیار نہیں۔
اس جنگ کا ’’ون لائنر‘‘ تو یہ ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران میں سے کوئی بھی ملک اپنی فتح کا جشن نہیں منا سکتا بلکہ کئی ماہ تک دست وگریباں ہونے، ہزارہا افراد کی شہادت یا ہلاک ہونے اور کثیر سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا ہے۔ اسی لیے تو معروف شاعر ساحر لدھیانوی نے کہا تھا…
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدمؑ کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
اگر ہم امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کاغیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو یہ حقیقت واضح طورپر سامنے آتی ہے کہ جنگ کے سیاسی اور معاشی نتائج میدان جنگ کے نتائج سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
امریکا کو ایک ایسے وقت میں ایک نئے محاذ کا سامنا کرنا پڑا جب وہ پہلے ہی عالمی سطح پر کئی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ اس جنگ نے امریکی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سفارتی ساکھ پر سوالات اٹھائے۔ امریکا نے اس جنگ میں بہت کچھ داؤ پر لگایا مگر اس کے بدلے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ کر سکا۔
اسرائیل کی صورتِ حال بھی یکسر مختلف نہیں۔ اس نے اپنی فوجی برتری ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے پہلی مرتبہ براہِ راست ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس جنگ نے اسرائیلی عوام کو یہ احساس ضرور دلایا کہ مستقبل کی جنگیں اپنے اثرات سرحدوں سے باہر نہیں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی مرتب کریں گی۔
دوسری طرف ایران نے کیا کھویا؟ایران کو عسکری اور معاشی سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگی نقصانات، پابندیوں اور اقتصادی دباؤ نے اس کی معیشت کو مزید کمزور کیا لیکن ایران نے یہ ثابت کیا کہ شدید دباؤ اور فوجی حملوں کے باوجود ہمت نہیں ہارا اور ایک خوددار قوم کی طرح میدان میں موجود رہا۔ ایران خطے میں اپنے اثر ورسوخ کے مکمل خاتمے کو روکنے میں کامیاب رہا۔
اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو بھی غور طلب ہے۔ خلیجی ممالک، پاکستان، ترکیہ، چین اور روس سب نے اس بحران کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے دنیا کو یاد دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بھی تنازعہ صرف علاقائی نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی منڈیوں کی صورتحال اس کی واضح مثال ہے۔آج جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں تو ایک اہم حقیقت بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ جن مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، انھیں طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کیوں کی گئی؟
اس جنگ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ فوجی طاقت بلاشبہ اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن پائیدار کامیابی صرف میزائلوں اور بمبار طیاروں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی سیاسی استحکام، معاشی طاقت اور سفارتی حکمتِ عملی سے حاصل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے اس جنگ کا مختصر ترین تجزیہ یہ ہے:
امریکا نے اپنی طاقت دکھائی لیکن اپنی مشکلات بھی بڑھائیں۔اسرائیل نے عسکری برتری ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن اپنی کمزوریاں بھی عیاں کیں اور برتری کی دھاک کم ہوئی۔ایران نے بھاری نقصان اٹھایا مگر ہتھیار ڈالنے سے انکار کر کے اپنی مزاحمتی شناخت برقرار رکھی۔اس جنگ میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ ہاری ہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ کا امن ہے، جو ایک بار پھر طاقت کی سیاست کی نذر ہو گیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.