اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فارن نیشنلٹی رولز 2026 پر عملدرآمد شروع کردیا
حکومت نے سول سرونٹس کو 90 یوم میں دوہری شہریت ڈیکلیئر کرنے کا حکم دے دیا جب کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فارن نیشنلٹی رولز 2026 پر عملدرآمد شروع کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے دوہری شہریت کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دیتے ہوئے تمام سول سرونٹس کو 90 روز کے اندر متعلقہ ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری آفس میمورنڈم کے مطابق یکم جون 2026 سے نافذ العمل فارن نیشنلٹی رولز 2026 پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دوہری شہریت سے متعلق خصوصی ڈیکلریشن فارم تیار کرکے تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور متعلقہ اداروں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
میمورنڈم کے مطابق تمام سرکاری افسران اور ملازمین اپنی غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ، مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی) اور دیگر غیر ملکی وابستگیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس کے علاوہ سول سرونٹس کو اپنے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی شہریت اور امیگریشن اسٹیٹس سے متعلق معلومات بھی جمع کرانا ہوں گی۔
حکومت نے نئی بھرتیوں کے لیے بھی غیر ملکی شہریت اور امیگریشن سے متعلق ڈیکلریشن جمع کرانا لازمی قرار دیا ہے۔ قواعد کے تحت اگر کوئی افسر یا ملازم حقائق چھپانے یا غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آفس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی امیگریشن پروگراموں میں شمولیت، سفری دستاویزات اور بیرون ملک رہائش سے متعلق معلومات کی فراہمی بھی لازمی ہوگی۔
مزید برآں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 8 جولائی تک اپنے ڈیکلریشن فارم جمع کرا دیں۔
آفس میمورنڈم کے مطابق یکم جون کو جاری رولز 2026 کے تحت نئی ڈسکلوزر پالیسی نافذ ہے، غیر ملکی شہریت حاصل کرنے یا امیگریشن پروگرام میں شمولیت کی معلومات دینا لازم ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.