ایران کا عمان سمیت متحدہ عرب امارات کیساتھ بھی رابطہ ہوا ہے، امریکی نائب صدر
ایران نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کی انتظامی و بحری سروسز سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب مارکو روبیو کے بقول امریکا اور ایران نے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کریا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ ان کی اپنے عمانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر تعمیری اور مفید گفتگو ہوئی ہے۔
عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ جس میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی امور، بحری خدمات اور خطے میں آئندہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے آئندہ انتظامات کو خطے کے ہمسایہ ممالک سے مشاورت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پرعزم ہیں کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل سے متعلق فیصلے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر کریں گے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ فوجی تنازعات سے بچنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی فوج کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے فوجی نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے۔
ان کے بقول ایرانی حکام نے اس تجویز پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے کو دوحہ بھیجیں گے تاکہ امریکی فوجی حکام کے ساتھ براہِ راست رابطہ برقرار رکھا جاسکے اور مستقبل میں تنازعات کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔
جے ڈی وینس نے مزید انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے سفارتی رابطے شروع کیے ہیں جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے۔
ان کے بقول دونون ممالک کے درمیان پاسدارانِ انقلاب سمیت مختلف سطحوں پر اقتصادی تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی بات چیت جاری ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.