Native World News

ہڈیاں چٹخنا، تھکن اور مسلسل سردرد: کہیں آپ اس ’خاموش وبا‘ کا شکار تو نہیں؟

ہڈیاں چٹخنا، تھکن اور مسلسل سردرد: کہیں آپ اس ’خاموش وبا‘ کا شکار تو نہیں؟

ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار لینے سے گریز کریں

مسلسل سر میں درد، تھکن محسوس ہونا اور ہڈیاں چٹخنا ہم اکثر سنتے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بھی اس خاموش وبا کا شکار ہو رہے ہیں؟

آج کل کے تیز رفتار دور میں ایک شکایت بہت عام ہو چکی ہے کہ طبیعت ہر وقت سست رہتی ہے، رات کو پوری نیند لینے کے باوجود صبح اٹھتے ہی تھکن کا احساس ہوتا ہے اور جسم کے مختلف حصوں، بالخصوص پٹھوں اور ہڈیوں میں درد رہتا ہے۔

اکثر لوگ اسے کام کی زیادتی یا عام کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ کسی بڑی بیماری کی وجہ سے نہیں، بلکہ جسم میں ایک انتہائی اہم جز یعنی وٹامن ڈی کی شدید کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

حالیہ طبی رپورٹس اور ماہرینِ صحت کے مطابق دنیا بھر سمیت پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کا شکار بالخصوص خواتین اور دفاتر میں کام کرنے والے افراد ہو رہے ہیں۔

عام طور پر وٹامن ڈی کو صرف ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید طبی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ ایک وٹامن سے زیادہ ایک ہارمون کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ ہمارے جسم میں درج ذیل اہم کام سرانجام دیتا ہے:

کیلشیم کا جذب ہونا:اگر جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو، تو آپ جتنی بھی کیلشیم والی غذا کھا لیں، جسم اسے جذب نہیں کر پاتا۔

قوتِ مدافعت:یہ ہمیں موسمی بیماریوں، نزلہ، زکام اور انفیکشنز سے بچانے میں ڈھال کا کام کرتا ہے۔

دماغی صحت اور موڈ:یہ دماغ میں ایسے کیمیکلز بناتا ہے جو انسان کو خوش رکھتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔

اگر آپ کے جسم میں اس وٹامن کی کمی ہو رہی ہے، تو آپ کا جسم آپ کو یہ خاموش اشارے دیتا ہے کہ:

مسلسل اور بلاوجہ تھکن:رات کو 8 گھنٹے سونے کے باوجود دن بھر سستی اور کمزوری محسوس ہونا۔

ہڈیوں اور کمر کا پرانا درد:خاص طور پر پنڈلیوں، کمر کے نچلے حصے اور جوڑوں میں ہلکا ہلکا درد رہنا۔

پٹھوں میں کھچاؤ:صبح اٹھتے وقت یا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پٹھوں میں درد یا کمزوری کا احساس۔

موڈ کا خراب رہنا یا چڑچڑاپن:بلاوجہ اداسی، انزائٹی (بے چینی) یا ہر بات پر غصہ آنا۔

بالوں کا تیزی سے گرنا:خواتین میں بالوں کے بے تحاشا گرنے کی ایک بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

زخموں کا دیر سے بھرنا:کسی بھی چوٹ یا زخم کا عام وقت سے زیادہ عرصے میں ٹھیک ہونا۔

ایک انتہائی اہم سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان جیسے گرم اور دھوپ والے ملک میں لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار کیوں ہیں؟ طبی ماہرین اس کی 3 بڑی وجوہات بتاتے ہیں:

جدید طرزِ زندگی:ہمارا زیادہ تر وقت گھروں، اسکولوں یا ائیر کنڈیشنڈ دفاتر کے اندر گزرتا ہے۔ سورج کی روشنی سے ہمارا سامنا نہ ہونے کے برابر ہے۔

سن اسکرین اور لباس کا استعمال:باہر نکلتے وقت سن اسکرین کریموں کا استعمال یا جسم کا مکمل ڈھکا ہونا دھوپ کو جلد میں جذب ہونے سے روکتا ہے۔

غذائیت کی کمی:ہماری روزمرہ کی خوراک میں وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں کا شامل نہ ہونا۔

وٹامن ڈی کی کمی سے نجات پانا کوئی مشکل یا مہنگا کام نہیں ہے۔ آپ درج ذیل 3 طریقوں سے اسے آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں:

1. سورج کی روشنی (بہترین اور مفت علاج)

طبی ماہرین کے مطابق، ہفتے میں 3 سے 4 مرتبہ صرف 15 سے 20 منٹ دھوپ میں بیٹھنا جسم کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔

بہترین وقت:صبح 8 بجے سے 11 بجے کے درمیان کی دھوپ سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔

طریقہ:کوشش کریں کہ دھوپ براہِ راست آپ کے چہرے، ہاتھوں یا بازوؤں پر پڑے۔ کسی شیشے (کھڑکی وغیرہ) کے پیچھے بیٹھنے سے وٹامن ڈی حاصل نہیں ہوتا۔

2. وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں

اپنی روزمرہ کی خوراک میں ان چیزوں کو لازمی شامل کریں:

انڈے کی زردی:روزانہ ایک پورا انڈا (زردی سمیت) کھائیں۔

مچھلی:(بالخصوص ٹونا یا سامن) وٹامن ڈی کا بہترین ذریعہ ہے۔

دودھ اور دہی:دن میں ایک گلاس فورٹیفائیڈ دودھ پینے کی عادت بنائیں۔

کلیجی:گائے یا بکرے کی کلیجی میں بھی یہ وٹامن پایا جاتا ہے۔

3. طبی معائنہ اور سپلیمنٹس (ڈاکٹر کے مشورے سے)

اگر آپ کی علامات شدید ہیں تو سب سے پہلے خون کا ایک سادہ ’وٹامن ڈی تھری ٹیسٹ‘ کروائیں۔ اگر رپورٹ میں کمی واضح ہو، تو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وٹامن ڈی کے کیپسول، ڈراپس یا انجیکشنز کا کورس کریں۔

اہم نوٹ: ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار لینے سے گریز کریں، کیونکہ اس کی زیادتی بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2819306/bones-cracking-fatigue-and-constant-headaches-are-you-suffering-from-this-silent-epidemic-2819306

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.