پاکستان میں ڈاکٹروں اور خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں پر حملے عام سی بات بن گئے ہیں۔
بلوچستان کے سب سے بڑے سول اسپتال کوئٹہ کی سرجیکل ریزیڈنٹ ڈاکٹر ماہ نور پر ایک مقامی باشندہ جو لفٹ بوائے ہے، نے برنس وارڈ کے سامنے تیزاب پھینکا۔ ڈاکٹر ماہ نور 13 فیصد تک زخمی ہوگئیں۔ ان کو بچانے والا ایک دوسرا وارڈ بوائے زخمی ہوا۔
ڈاکٹر ماہ نور کو کوئٹہ کے سول اسپتال کے برنس وارڈ میں اس لیے داخل نہیں کیا جاسکا کہ اس وارڈ میں نہ تو کوئی سینئر ڈاکٹر تعینات ہیں نہ ہی جدید آئی سی یو اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور کو پہلے کوئٹہ کے پرائیویٹ اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ پھر ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔
گزشتہ ماہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کوئٹہ گئے تھے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ان سے ایئر ایمبولینس کا افتتاح کرایا تھا ، کاش وزیر اعلیٰ یہ رقم سول اسپتال کوئٹہ میں جدید سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ کرتے ۔ کوئٹہ پولیس نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو ایک پولیس مقابلہ میں ہلاک کردیا، کاش اس ملزم کو زندہ پکڑا جاتا اور سائنسی خطوط پر تفتیش ہوتی تو بہت سے حقائق سامنے آتے ۔
بلوچستان کی حکومت بھی ایک عجیب حکومت ہے کہ ڈاکٹر (جس میں خواتین بھی شامل ہیں) ماہ نور پر حملہ کے خلاف احتجاج کررہے تھے ، انھیں معطل کردیا گیا ہے۔ اس سے زیادہ افسوس ناک بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کوئٹہ میں کوئی بھی شخص بغیر کسی وضاحت کے تیزاب خرید سکتا ہے اور کسی مظلوم کی زندگی کو مجروح کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ریل سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرسوں کی شکایت پر ڈاکٹر ماہ نور نے ملزم کی سخت سرزنش کی تھی، شاید ملزم پر نام نہاد مردانگی غالب آگئی ہوگی اور ا س نے لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر اپنے انتقام اور انا کی آگ کو ٹھنڈا کیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ نور کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ علاقہ ڈھرکی سے ہے، یہ خاندان زمینداری اور کاروبار کے شعبے سے منسلک ہے۔ اس علاقے میں خواتین کو تعلیم حاصل نہ کرنے کی روایت بہت گہری ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور نے اپنی کزن ڈاکٹر سعدیہ ناصر کے راستہ پر چلتے ہوئے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہ نور کا عزم اتنا مستحکم تھا کہ اس کے والد نے ان کی بات مان لی۔ ڈاکٹر ماہ نور نے کوئٹہ کے میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی اور سول اسپتال میں ریزیڈنسی شروع کی۔ ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کی بہن بہت بہادر ہے۔ اس کو جب زخمی حالت میں کوئٹہ سے کراچی ایئرپورٹ پر لایا گیا تو ماہ نور نے اسٹریچر پر لیٹنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ خود چل کر جائیں گی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ماہ نور ڈر گئی ہے۔
ان کے بھائی فرحت اﷲ ناصر کا مزید کہنا ہے کہ ان کی بہن روایت شکن ہے۔ جب وہ ڈاکٹر بنیں تو ان کی بدولت ان کے خاندان کی کئی لڑکیاں پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے لگیں۔ اطلاعات کے مطابق سول اسپتال کوئٹہ اورشہر کے دیگر اسپتالوں میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسیں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ سول اسپتال کوئٹہ کی ڈاکٹر شازیہ خیلوک نے ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات پر آواز اٹھائی تاہم اس کے نتیجے میں پورا نظام ان کے خلاف ہوگیا اور انھیںخود بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کہنا ہے کہ ہمیں روزانہ اسپتالوں میں ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر خواتین اکثر اس خوف کا شکار رہتی ہیں کہ ہمارے خاندان کی بدنامی ہوئی۔ پھر انھیں بلیک میل کرنے کے لیے کسی اہلکار نے ان کا ذاتی ڈیٹا لیک کردیا۔ ایک طرف تو بلوچستان کے اسپتالوں میں خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کو مسلسل جنسی ہراسگی اور بلیک میلنگ کے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف محکمہ صحت اسپتالوں میں نئے ڈاکٹروں کے تقرر اور جدید آلات کی فراہمی کے لیے تیار نہیں ہے۔
بلوچستان کا 30 جون کو اختتام پانے والے مالیاتی سال کے لیے صحت کا بجٹ 71 بلین روپے مختص کیا گیا تھا جس میں سے 16.4 بلین روپے ترقیاتی پروجیکٹس کے لیے مختص کیے گئے تھے مگراس بات کا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس مالیاتی سال میں صحت کے ترقیاتی پروجیکٹ کے لیے جو رقم مختص ہوئی تھی اس میں سے کتنی رقم خرچ ہوئی اور کتنے پروجیکٹ مکمل ہوئے۔
مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ شعبہ صحت کے لیے مختص رقم اور ترقیاتی پروجیکٹس کے لیے مختص رقم میں سے خاطرخواہ رقم صوبہ کے بڑے اسپتال پر خرچ ہوتے تو برنس وارڈ سمیت اسپتال کے تمام وارڈز میں صحت کی جدید سہولتیں دستیاب ہوتیں۔ ماہ نور کو سرکاری امداد مل گئی مگر ان سیکڑوں غریب عورتوں، مردوں اور بچوں کا کیا ہوگا جو صوبہ کے دور دراز علاقوں سے اپنے بچوں کی صحت یابی کے لیے سول اسپتال آتے ہیں اور پھر مایوس لوٹ جاتے ہیں یا اپنی جمع پونجی اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لیے پرائیویٹ اسپتالوں پر خرچ کردیتے ہیں۔
پاکستان میں ڈاکٹروں اور خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں پر حملے عام سی بات بن گئے ہیں۔ گزشتہ سال خیبر پختون خوا کے سرحدی علاقہ کوہاٹ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر اسپتال کی ڈاکٹر شازیہ جب اپنے فرائض ادائیگی کے بعد اسپتال کے دروازہ کے باہر تک پہنچی تھیں تو ایک فرد نے انھیں فائرنگ کر کے قتل کردیاتھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ قاتل کو انھوں نے اسپتال کے وارڈ میں داخل ہونے سے روکا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ویٹنگ ایریا میں انتظار کریں۔ ڈاکٹر وردہ ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ اسپتال میں فرائض انجام دے رہی تھیں۔ ان کی ایک سہیلی اور ا س کے شوہر نے انھیں قتل کیا تھا۔ کراچی میں ڈاکٹر سارنگ میمن کو بھی قتل کیا گیا۔ ان میں سے کچھ کے قاتل پکڑے گئے جب کہ دیگر ملزمان کا مسلسل پولیس تعاقب کررہی ہے۔
ہر سال کئی خواتین تیزاب کے حملوں کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیزاب آسانی سے ملنے کی بناء پر منتقم مزاج مرد حضرات عورتوں کو سزا دینے کے لیے تیزاب کا استعمال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان وارداتوں پر قابو نہیں پایاجارہا۔ 25 اپریل 2023کو پنجاب کے شہر عارف والا میں روبینہ بی بی نامی ایک عورت پر شوکت نامی شخص نے تیزاب پھینکا تھا۔
شوکت کو عدالت نے سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ تیزاب گردی قتل سے زیادہ ہولناک جرم ہے۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک مقدمہ کے فیصلہ میں لکھا ہے کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا فیصلہ ہر صورت میں 4 ماہ میں مکمل ہوجانا چاہیے اور عام شہریوں کو تیزاب کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہونی چاہیے، نیز تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جانا چاہیے۔
حکومت تیزاب کے متاثرین کے لیے امدادی فنڈ قائم کرے۔ سپریم کورٹ کے معزز جج نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ تیزاب حملہ کے متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ اور سرکاری نوکری کا کوٹہ مختص کیا جائے اور ہائی کورٹ تیزاب گردی کے مقدمات کی خود نگرانی کرے۔ سپریم کورٹ نے اس انسانیت سوز جرم کے تدارک کے لیے جامع فیصلہ دیا ہے کہ وفاق اور چاروں صوبوں کو اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہیے ۔
کوئٹہ سینڈمین سول اسپتال کا معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ کوئٹہ کے ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اسپتال میں سیکیورٹی کے انتظامات ناقص ہیں۔ حکومت کو فول پروف سیکیورٹی کا نظام قائم کرنا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ہی خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں پر جنسی ہراسگی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنانے والے بااثر افراد کا فوری طور پر محاسبہ ہونا چاہیے۔
حکومت کو ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ، تیزاب پھینکنے کے ملزم کی ہلاکت، سول اسپتال کی ناگفتہ بے حالت اور ڈاکٹروں کے عدم تحفظ کے اسباب جاننے کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ٹریبونل قائم کرنا چاہیے۔ اس ٹریبونل کی رپورٹ کو عوام کے لیے مشتہر کیا جانا چاہیے اور بلوچستان اسمبلی کو اس رپورٹ پر کھل کر بحث کرنی چاہیے۔ بلوچستان کے قدامت پرستانہ ماحول میں ڈاکٹر ماہ نور اور ڈاکٹر شازیہ ایک اثاثہ ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.