Native World News

رواں مالی سال میں کئی شعبوں کے اہداف حاصل نہیں ہوئے،اقتصادی سروے آج جاری ہوگا

رواں مالی سال میں کئی شعبوں کے اہداف حاصل نہیں ہوئے،اقتصادی سروے آج جاری ہوگا

مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی سمیت دیگر اہم معاشی اہداف حاصل نہیں ہوئے، ترسیلات زر اور لائیو اسٹاک سیکٹر میں نمایاں بہتری

رواں مالی سال کی اقتصادی کارکردگی پر مشتمل اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی ٹیم کے ساتھ میڈیا کے سامنے اقتصادی سروے پیش کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں جی ڈی پی سمیت دیگر اہم معاشی اہداف حاصل نہیں ہوسکے البتہ ترسیلات زر،سروسز سیکٹر اور لائیو سیکٹر سمیت کچھ شعبوں میں اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں۔

اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق لائیو اسٹاک شعبے کی ملکی معیشت میں مثبت کارکردگی رہی۔ مویشیوں کی تعداد اور پیداوار میں مجموعی اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔بھینسوں، گائیوں، بکریوں، بھیڑوں، اونٹوں، گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں ملکی جی ڈی پی گروتھ 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے 3.7 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ آئی ایم ایف، عالمی بینک ، اے ڈی بی نے بھی شرح نمو کم رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فی کس آمدن ، زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا ہے، تاہم ترسیلات زر میں اضافہ ہوا اور خدمات کے شعبے کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔

رواں مالی سال میں اوسط مہنگائی7.50 فیصد سالانہ ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران 7 فیصد رہی ہے جبکہ مئی میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال فی کس آمدنی کا سالانہ ہدف 5لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا جبکہ فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔ البتہ ڈالروں میں فی کس آمدنی 150ڈالر اضافے سے1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے 2.89 فیصد، صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ٹارگٹ کے برعکس 3.51 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

علاوہ ازیں  رواں مالی سال خدمات کے شعبے کی کارکردگی 4 فیصد ہدف سے کچھ زیادہ 4.09 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات38 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے، جون کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اشیا کی برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا۔ تاہم 11ماہ میں 28ارب ڈالر تک محدود رہی ہیں۔

اسی طرح درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ(جولائی تا مئی)کے دوران ملک کی درآمدات 63 ارب ڈالر رہی ہیں اور توقع ہے کہ جون تک کے حتمی اعدادوشمار آنے برآمدات و درآمدات کے اہداف بھی حاصل ہوجائیں گے۔

اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی جبکہ ماہی گیری کے شعبے نے 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی۔ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ، گائیوں کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار اور بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ریکارڈ کی گئی۔

اونٹوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ 93 ہزار، گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار، خچروں کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار جبکہ گدھوں کی تعداد بڑھ کر 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جو لائیو اسٹاک سیکٹر میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2816966/targets-of-many-sectors-not-achieved-in-current-fiscal-year-economic-survey-to-be-released-today-2816966

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.