لبنان میں رواں برس مارچ سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 19 ہوگئی
لبنان کے جنوبی علاقے حزب اللہ کے مارٹر حملے میں اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جس کی شناخت 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ نیگیو ڈیگن کے نام سے ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپریل میں امریکی ثالث میں ہونے والی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے باوجود سرحدی جھڑپیں اور راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حزب اللہ کے مارٹر شیل لگنے سے ہلاک ہونے والا اہلکار گولانی بریگیڈ کی 12ویں بٹالین میں تعینات تھا جو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائیوں کے لیے مختص ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ حزب اللہ نے یہ حملہ جمعرات کی رات جنوبی لبنان کے ایک دیہات میں اس وقت کیا جب فوجی ٹیم سرچ آپریشن کررہی تھی۔ مارٹر گولہ لگنے سے اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا۔
ביממה האחרונה: צה"ל תקף כ-65 תשתיות וחיסל יותר מ-20 מחבלים מארגון הטרור חיזבאללה בדרום לבנוןצה"ל ממשיך לפעול להסרת איומים על אזרחי ישראל וכוחות צה"ל בדרום לבנון.במהלך היממה האחרונה. צה"ל תקף מהאוויר ומהיבשה, יותר מ-65 תשתיות של ארגון הטרור חיזבאללה במספר מרחבים בדרום לבנון.…pic.twitter.com/JFnV0eZqWI
ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ رواں برس مارچ سے لبنان میں حزب اللہ سے جھڑپوں میں اب تک 19 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں جبکہ اپریل میں امریکی صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد ہلاک ہونے والے یہ چھٹے اسرائیلی فوجی ہیں۔
ادھر حزب اللہ نے لبنان کی سرحد سے اسرائیل کے شمالی علاقوں لوئر گلیلی اور کریات شمونہ کی جانب متعدد راکٹ داغے تاہم اس میں ہونے والی جانی اور مالی نقصان کا جائزہ لا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حزب اللہ کے متعدد راکٹس اور ڈراونز فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ چند راکٹ کھلے میدانوں میں گر کر تباہ ہوگئے۔ کوئی راکٹ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 24 گھنٹوں میں لبنان کے جنوبی علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے جن میں حزب اللہ کے 20 سے زائد جنگجو ہلاک جبکہ 65 سے زائد اسلحہ ڈپو، کمانڈ سینٹرز، نگرانی کی چوکیاں اور دیگر عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ ان جھڑپوں کے دوران ہی امریکا میں اسرائیلی اور لبنانی وفود کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور بھی جاری ہے جسے میزبان امریکی محکمہ خارجہ نے مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔
لبنان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل حملے بند کرے اور مکمل انخلا کرے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح بنانے میں ناکام رہی ہے۔
حزب اللہ نے ان براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ہتھیار زیر بحث نہیں آ سکتے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.