خاتون کانسٹیبل شکیلہ اپنے شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر شہر جارہی تھی
بلوچستان کی ایک اور بیٹی، کانسٹیبل شکیلہ بلوچ، ہندو پراکسی کی نظر ہوگئی جب کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور اس کے دہشتگرد پراکسی نیٹ ورکس اب خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ڈیوٹی پر جا رہی تھی، یہ حملہ صرف ایک ذمہ دار خاتون پر نہیں بلکہ بلوچستان کی ان بہادر خواتین پر حملہ ہے جو عوام کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہیں۔
فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بلوچی روایات، غیرت اور خواتین کے احترام کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف ایک خاتون پولیس اہلکار کو شہید کیا بلکہ معصوم بچے اور شوہر کو بھی زخمی کر دیا۔
یہ حملہ بلوچ معاشرتی اقدار کے منہ پر طمانچہ ہے، بلوچستان کی بیٹیوں کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔ اس سے قبل شہید ملک ناز بھی انہی دہشتگرد عناصر کی بربریت کا نشانہ بنیں۔
آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ یہ گروہ صرف خوف، خونریزی اور بیرونی ایجنڈے کا ہتھیار ہے، نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور BYC جیسے پلیٹ فارمز کی مجرمانہ خاموشی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
جب بلوچ خواتین، پولیس اہلکار اور معصوم بچے دہشتگردی کا نشانہ بنتے ہیں تو یہی عناصر دانستہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے بیانیے میں دہشتگرد کی مذمت کی کوئی جگہ نہیں۔
بی وائی سی اور دہشتگرد پراکسی بیانیہ مسلسل سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے خلاف صرف نفرت پھیلاتے ہیں، دہشتگردی کی سیاسی و اطلاعاتی سہولت کاری بھی اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا خود دہشتگرد حملہ۔
بلوچستان پولیس کی خواتین اہلکار آج ریاستی عزم، بہادری اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں، لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کی قربانی اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام دہشتگردی کے سامنے جھکنے والے نہیں۔
بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر نہ بلوچ ہیں، نہ قومی، بلکہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والے دہشتگرد ہیں جو بلوچستان کو عدم استحکام کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.