Native World News

گرین فنانسنگ میں اسلامی بینکاری کا اہم کردار

گرین فنانسنگ میں اسلامی بینکاری کا اہم کردار

پاکستان میں اسلامی بینکاری نے نمایاں اور فیصلہ کن مقام حاصل کرلیا ہے

ماحولیاتی تبدیلی کوئی فسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کی سمت اور ترجیحات کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ جیسے جیسے حکومتیں، ادارے اور سرمایہ کار پائیدار حل کی جانب بڑھ رہے ہیں، اسلامی بینکاری گرین فنانسنگ کی فطری شراکت دار کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اس کے بنیادی اقدار ”رسک شیئرنگ (خطرات کی شراکت)، اخلاقی سرمایہ کاری اور حقیقی معاشی سرگرمی“ ماحولیات، سماج اور گورننس (ESG) اہداف سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔

اسلامی مالیات کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ سرمایہ کاری ایسے شعبوں میں نہ کی جائے جو نقصان دہ، غیر اخلاقی یا محض قیاس آرائی پر مبنی ہوں بلکہ انصاف، شفافیت، ذمے داری اور سماجی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی بینکاری ESG فریم ورک کے ساتھ فطری مطابقت رکھتی ہے اور سرمایہ کو قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت (Energy Efficiency) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ منصوبوں کی جانب منتقل کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اس تناظر میں گرین سکوک نہایت اہم اور قابل ذکر مالیاتی ذریعہ ہے۔

یہ شریعت کے مطابق جاری کیے گئے ایسے بانڈز ہیں جن سے حاصل ہونے والی رقم ماحول دوست اور پائیدار منصوبوں کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ گرین سکوک نہ صرف سرمایہ کاروں کو ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے مستحکم مالی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

عالمی سطح پر ملائیشیا نے 2017 میں گرین سکوک کا آغاز کیا، جب Tadau Energy نے صباح میں سولر پی وی منصوبے کے لیے 250ملین ملائیشین رنگٹ کے ساتھ گرین سکوک جاری کیے۔ اس کے بعد کوانٹم سولر پارک کے تین سولر پلانٹس کے لیے ایک ارب رنگٹ جاری کیے گئے، جو سالانہ 282,000 میگا واٹ آور بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح PNB Merdeka Ventures نے 2ارب رنگٹ کا اجراء کیا گیا، جس کے ذریعے ملائیشیا کی معروف کمپنی Merdeka PNB118 Tower کو سرمایہ فراہم کیا گیا۔

انڈونیشیا نے 2018 میں قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے منصوبوں کے لیے 1.25 ارب ڈالر کے گرین سکوک جاری کیے، جن میں سرولا جیوتھرمل پلانٹ جیسے منصوبے شامل ہیں، جس سے سالانہ 1.3 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوا۔ 2025 کے وسط تک انڈونیشیا نے عالمی سطح پر ڈالر میں جاری کردہ گرین سکوک کے ذریعے 6 ارب امریکی ڈالرز جبکہ ملکی سطح پر 3.6 ارب ڈالر کی کے سکوک جاری کیے۔ اس نمایاں پیشرفت نے انڈونیشیا کو ملائیشیا اور سعودی عرب کے ساتھ دنیا کے نمایاں ESG-compliants سکوک جاری کرنے والے ممالک میں شامل کردیا۔

یہ عالمی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اسلامی مالیات نہ صرف پائیداری کے اصولوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں بلکہ کم کاربن معیشتوں کی جانب منتقلی کو تیز کرسکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا براہِ راست شکار ہے، گرین فنانسنگ اب کوئی اختیاری قدم نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت نہ صرف روزگار بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قومی سطح پر مستحکم اور پائیدار ترقی کے لیے قابل تجدید توانائی اور ماحول دوست انفرااسٹرکچر کی جانب منتقلی ناگزیر ہے۔

اسلامی بینک اس چیلنج سے نمٹنے میں موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے بینکاری نظام کے تقریباً پانچویں حصے کے اثاثے شریعت کے مطابق ہیں اور یہ شعبہ تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ یہ ادارے سولر، ونڈ اور پائیدار انفرااسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف توانائی کے تحفظ اور استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی۔

پاکستان کے ایک اسلامی بینک فیصل بینک لمیٹڈ نے اس موقع کو بھرپور انداز میں اختیار کیا ہے۔ روایتی مالیاتی خدمات فراہم کرنے کی علاوہ ایف بی ایل خود کو پاکستان کی گرین ٹرانزیشن کا شراکتدار سمجھتا ہے۔ اس کی مکمل طور پر اسلامی بینک میں تبدیلی اس عزم کی عکاس ہے کہ ترقی کو اخلاق، اقدار پر مبنی اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، جہاں شریعت کے اصول پائیداری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

اس بینک نے ESG پہلوؤں کو اپنے اسٹریٹجک فریم ورک میں شامل کیا ہے تاکہ فنانسنگ سے متعلق فیصلے کرتے وقت طویل المدتی ماحولیاتی اور سماجی اثرات کو مدنظر رکھا جاسکے۔ دیہی علاقوں میں سولر توانائی کے حل کی معاونت سے لے کر سندھ کے ساحلی علاقوں میں ونڈ پاور منصوبوں میں سرمایہ کاری تک، مزکورہ بینک فعال انداز میں ایسے طریقے تلاش کررہا ہے جن کے ذریعے سرمایہ پائیدار منصوبوں کی جانب منتقل کیا جاسکے۔ ایسے منصوبے جو قابل پیمائش سماجی و ماحولیاتی فوائد پیدا کریں۔

پاکستان میں اسلامی گرین فنانس کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے تین عوامل ضروری ہیں:

1۔ پالیسی اور ریگولیٹری معاونت: ایسے مراعاتی اقدامات، رپورٹنگ کے معیارات اور فریم ورک کی ضرورت ہے جو گرین سکوک کے اجراء اور پائیدار منصوبوں کی فنانسنگ کو آسان اور موثر بنائیں۔

2۔ سرمایہ کاروں کی آگاہی: ادارہ جاتی اور ریٹیل سرمایہ کاروں میں شعور بڑھانا ضروری ہے کہ شریعت کے مطابق اور ماحول دوست فنانسنگ نہ صرف اخلاقی سرمایہ کاری ہے بلکہ طویل المدتی مالی فوائد بھی فراہم کرتی ہے۔

3۔ تعاون: بینکوں، ریگولیٹرز، کثیرالجہتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون ناگزیر ہے، تاکہ پاکستان کے موسمیاتی اور معاشی چیلنجز کے مطابق قابل عمل حل تیار کیے جاسکیں۔

عالمی سطح پر ملائیشیا سے لے کر انڈونیشیا تک گرین سکوک نے قابل تجدید توانائی، پائیدار نقل و حمل اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والے منصوبوں کی بڑے پیمانے پر مالی معاونت کی ہے۔ پاکستان میں فیصل بینک جیسے ادارے اسلامی بینکنگ کی ان کامیابیوں کو فروغ دے سکتے ہیں تاکہ شریعت پر مبنی فنانس اقتصادی اور ماحولیاتی دونوں مقاصد کے حصول میں کردار ادا کرے۔

جیسے جیسے دنیا کاربن اخراج میں کمی کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان میں اسلامی بینکاری نے نمایاں اور فیصلہ کن مقام حاصل کرلیا ہے، جہاں سرمایہ محض مالی فائدے کا ذریعہ نہیں بلکہ موسمیاتی استحکام، پائیدار ترقی اور جامع معاشی نمو کے لیے ایک موثر قوت بن سکتا ہے۔ شریعت کی پاسداری کو ESG اصولوں کے ساتھ جوڑ کر بینک ایسا مالیاتی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جہاں اخلاقی مالیات اور ماحولیاتی ذمہ داری ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہوں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected]پر ای میل کردیجیے۔

Source: https://www.express.pk/story/2816911/the-important-role-of-islamic-banking-in-green-financing-2816911

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.