Native World News

تیل کی قیمتوں میں کمی اور کرایوں میں کمی

تیل کی قیمتوں میں کمی اور کرایوں میں کمی

اصل بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹرز بھی کرایوں کو جنوری یا فروری 2026 کی سطح پر لے کر آ جائیں۔

عالمی سفارتی کینوس پر امریکا اور ایران کے مابین کسی بھی اصولی معاہدے کی تکمیل مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے جغرافیائی اور اقتصادی منظرنامے کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ معاہدہ جہاں پاکستان کے لیے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے کے نادر مواقعے لاتا ہے وہاں خارجہ پالیسی کی تزویراتی توازن پسندی کے لیے نئے امتحانات اور چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ توانائی کی سلامتی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ معاشی پابندیوں پر خاتمے سے پاکستان کے لیے سستے ایندھن کے حصول کی راہ میں حائل سب سے بڑی قانونی رکاوٹ اگر دور ہو جاتی ہے جیساکہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہے، ایران سے گیس کی درآمد سے پاکستان میں صنعتوں کو سستی فراہمی کی صورت میں مینوفیکچرنگ لاگت کم ہوگی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کم مقدار میں ایران سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے لیے بجلی درآمد کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کو باقاعدہ قانونی اور وسیع پیمانے پر پھیلانے سے بلوچستان کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔

اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ ابھی تک دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ تجارت میں اضافے کے درمیان بینکنگ سسٹم کی رکاوٹ تھی۔ معاہدے کی صورت میں پاکستانی بینک ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایل سی کھولنے کے قابل ہو جائیں گے۔ پاکستان اپنی بہت سی مصنوعات اور چاول، گندم اور کئی اقسام کے پھل وغیرہ برآمد کرکے پٹرولیم مصنوعات، گیس، کوئلہ اور لوہا حاصل کر سکتا ہے، لہٰذا بارٹر سسٹم رائج کرنے کی ضرورت میں پاکستان ڈالر کے ذخائر کے دباؤ میں کمی لا کر تجارتی خسارے کو قابو میں لا سکتا ہے۔ گوادر اور چاہ بہار کے درمیان اشتراک عمل قائم ہو سکتا ہے جس سے وسطی ایشیا کے تجارتی راستوں کے ذریعے تجارت میں اضافہ ہوگا۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ دنوں تیل کی قیمت میں کمی کرکے اسے 299 روپے فی لیٹر پر لے جایا گیا لیکن آبنائے ہرمز کے پرامن رہنے سے ایرانی تیل کی واپسی تو ہوگی مگر اوپیک پلس کی پیداواری کٹوتیاں اور عالمی طلب میں کمی قیمتوں کو ایک حد سے نیچے نہیں گرنے دیں گی۔ فی الحال دنیا بھر میں کساد بازاری چھائی ہوئی ہے۔

ایسے حالات میں لوگ مہنگی درآمدی اشیا کی جگہ سستی متبادل اشیا کو ترجیح دیں گے، لیکن مقامی سطح پر جو اشیا تیار ہو رہی ہیں ان کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا وہاں پر مہنگائی کا راج قائم رہے گا۔ حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں محض 7 فی صد کا اضافہ کیا گیا۔ ایک طرف مہنگائی میں اضافہ دوسری طرف پنشن میں معمولی اضافہ حقیقی قوت خرید میں کمی کا باعث بنے گا۔ دوسری طرف صرف پنجاب حکومت نے پنشن میں محض 3.5 فی صد اضافہ کیا ہے جس سے مزید لاکھوں افراد کے لیے غربت کی کھائی میں جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ پنجاب جوکہ 15 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے وہاں پر جو منفی اثرات مرتب ہوں گے تو پورے پاکستان میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ایران امریکا معاہدے کے باوجود خطے میں امن کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے، لیکن اس معاہدے کی تکمیل سے پاکستان کی معیشت کے لیے مزید نئی جہتیں پیدا ہوکر رہیں گی۔

پاکستان ایران گیس پائپ لائن کا خطرہ ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگر پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر اپنا کام کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایران سے اگر گیس پائپ لائن بچھا کر معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے باعث گیس کا حصول اب مشکل نہ ہوگا۔ صنعتوں کو گیس کی فراہمی سے سستی ترین گیس جب صنعتوں کو دی جائے گی تو اس سے مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی ہوگی۔ پاکستان پہلے ہی ایران سے بجلی درآمد کرتا ہے، لہٰذا اب اس نیٹ ورک کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹرز بھی کرایوں کو جنوری یا فروری 2026 کی سطح پر لے کر آ جائیں۔ صرف بس یا ویگن وغیرہ کے کرائے کی بات کے علاوہ سوزوکی والے، رکشے والے، ٹرک والے جس طرح سے پہلے والے ہی کرایوں پر اسرار کرتے ہیں، وہ معیشت کے لیے انتہائی مضر ہے، کیونکہ کرایوں میں کمی کے اثرات اشیا کی ترسیل پر مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اب تک ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا کہ پٹرول ڈیزل کی قیمت کتنے روپے ہونے پر فی 5 میل یا 10 کلو میٹر کتنا کرایہ لیا جانا چاہیے۔ بسوں کا، مزدا ویگن والوں کی طرف سے کسی بھی دیگر ٹرانسپورٹ کا۔ اگر اس مسئلے کو حل کر لیا جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں اطراف مسافروں اور ڈرائیوروں کو اطمینان ہوگا، لیکن یہ اطمینان والی کیفیت کی خاطر پاکستان دنیا کے دیگر ملکوں کے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا نظام کا مطالعہ کرے تو شاید کوئی بہتر صورت نکل سکتی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2819138/tail-ki-qeematon-main-kami-aur-kirayon-main-kami-2819138

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.