سینیٹ اجلاس میں ارکان کا بجٹ پر اظہار خیال
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت نے غریب مکاؤ بجٹ پیش کیا جو بجٹ نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ بجٹ کیا پاکستان کے عوام کے حق میں پیش کیا گیا ہے؟، یہ بجٹ عوام کو مہنگائی سے نکالنے کے بجائے مزید اس میں داخل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی ادارے سے کوئی اعترض نہیں، ملک میں اتنا قرض کیوں لیا گیا، ایسے ملک چلایا جاتا ہے؟ غربت بڑھتی جا رہی ہے، سات کروڑ عوام پاکستان میں غریب ہیں، اس سال دو کروڑ سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے گئے، یہ بجٹ نہیں بلکہ ایک خوف کی علامت ہے، آٹھ ہزار ارب روپے قرض پر سود دینا ہوگا۔
سینیٹر شیری رحمان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خواتین کی ہائجین اور فیملی پلاننگ پراڈکٹس پر 18 فیصد ٹیکس ہٹوایا ہے، پاکستان پر نیشنل سیکیورٹی کا پریشر ہے، فیڈرل گورنمنٹ اپنا خرچ کم کرے، کوئی صوبہ صحت پر خرچ نہیں کر پا رہا، ہم سندھ میں اب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے شروع کرنے جا رہے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ صحرا بن گیا ہے، کلائمٹ چینج کو ساری دُنیا تسلیم کر رہی ہے اور یہاں اس پر اخراجات کم کیے جا رہے ہیں، کلائمٹ کا فوڈ سیکیورٹی پر براہ راست اثر ہوتا ہے، ہمارے دور میں پاکستان گندم ایکسپورٹ کر رہا تھا۔
سینیٹر محسن عزیز نے سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار جوبیس کے الیکشن سے لیکر جی بی میں ہونے والے الیکشن سب میں دھاندلی ہی کی گئی ہے، اگر ملک میں آج پیٹرول سستا ہوتا اور عوام کو ریلیف مل رہا ہوتا تو آج میں حکومت کی یہاں پر تعریف کرتا۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کچھ سال پہلے اٹا گیارہ سو کا تھا اور آج 26 سو کا ہے اسی طرح اور ایشاء کی قمیتں بھی بڑھ گئی ہیں۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اس بجٹ کو عوامی بجٹ کہنا مشکل ہوگا، عوامی بجٹ کے لیے اس میں صحت، تعلیم اور زراعت کو دیکھنا ہوگا، صحت کے شعبے پر صرف 0.1 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے، پاکستان میں 16.5 فیصد لوگ غذائی کمی کا شکار ہیں، پاکستان میں بی آئی ایس پی غریبوں کی کفالت کا پروگرام ہے، اس میں مزید اضافہ کیا جائے۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اس بجٹ سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ تنخواہ دار ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں سات فیصد سے زیادہ اضافہ ہونا چاہئے، یہ ایسا عجیب بجٹ ہے کہ وفاق صوبوں سے مدد مانگ رہا ہے۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ سر جوڑے بیٹھیں تو ہم بہتری کی امید میں تھے مگر بجٹ آیا تو ویسا ہی یا جیسا ماضی میں تھا، پاکستان معاشی بحران، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ترسیلات زر ملکی برآمدات سے زیادہ ہے جو افسوسناک ہے، سرکار کو جو حاصل ہو رہا وہ نان ٹیکس ہے، صوبوں کی آمدنی سرکار کو آ رہی ہے، یہ صوبوں کے ساتھ زیادتی ہے، 18 ویں ترمیم میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبوں کو مالی اختیارات دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے مرکز کو چلانے کے لیے بہت کچھ دے رہے ہیں، نئی ترمیم لانے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ ایشوز سے توجہ ہٹائی جا سکے، ہمارا سارا انحصار قرضوں پہ ہے فخریہ انداز میں آئی ایم ایف ڈیل کا بتاتے ہیں، جنگ کسی اور ملک میں ہورہی ہے تیل کی قیمت ہم کیوں بڑھا رہے ہیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ اگر جنگ کی وجہ سے تیل بڑھی تو اب جنگ رک گئی ہے، پٹرول ڈیڑھ سو روپے ہوجانا چاہئے، مینڈیٹ کی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، تمام جماعتیں کمپرومائزڈ ہیں، عوام جس کو مرضی ووٹ دیں، اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرے گی کہ اقتدار کس کو دینا ہے، اگر صوبوں کو کمزور کریں گے، لوگوں کے مینڈیٹ پہ ڈاکہ ڈالیں گے تو ملک کمزور ہوگا۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان بہت بری صورتحال سے گزر رہا ہے، جنرل مشرف نے بلوچستان میں جو آگ لگائی ہے اس کی کوئی حد نہیں، بلوچستان عملا نوگو ایریا چن چکا ہے، اے سی ڈی سیز کی عملداری اپنے دفاتر تک ہے، ریڈزون میں بیٹھنے والے سرکاری اعمال کو بھی اپنی حفاظت کیلئے قبائلیوں کی خدمات لینا پڑرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بٹھائی گئی صوبائی حکومت فارم 47 کی حکومت ہے، بلوچستان میں برسراقتدار لوگ جنگی منافع خور ہیں، بلوچستان کی صوبائی حکومت میں موجود لوگ کسی سیاسی جماعت کے نہیں ہیں، اب بھی وقت ہے عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں، زبردستی لانے والے لوگ اس ملک، قوم اور بلوچستان کے دوست نہیں ہوسکتے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.