مسافروں سے آذربائیجان وزٹ ویزا پر بھجوانے اور ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے میں ملازمت دلوانےکے نام پر 18 لاکھ روپےطلب کیے
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کے دوران مشکوک دستاویزات اور معلومات کے سبب آذربائیجان جانے والے دو مسافروں کوآف لوڈ کردیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق جناح ٹرمینل ائیرپورٹ پر امیگریشن عملے نے آذربائیجان جانے والے دو مسافروں کو دوران امیگریشن کلیئرنس مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر روک کر جانچ پڑتال کا آغاز کیا، مسافروں کا تعلق سندھ کے علاقے دادو سے ہے، جو پاکستانی پاسپورٹس پر وزٹ ویزا کے ذریعےآذربائیجان سفر کررہےتھے۔
انہوں نے بتایا کہ دستاویزات کی جانچ اور انٹرویوکے دوران مسافر نے بتایا کہ اس کے والد سندھ پولیس میں ملازم ہیں اور اس وقت پاسپورٹ آفس دادو میں تعینات ہیں، ان کے مطابق والد کے ذریعے اس کا رابطہ سلیم نامی شخص سے ہوا، جس نے بعد ازاں اسے مبینہ ٹریول ایجنٹس سے متعارف کروایا۔
مسافروں نے بتایا کہ وہ آذربائیجان میں موجود سعید نامی شخص سے بھی رابطے میں تھے، جو مبینہ طور پر آذربائیجان میں مقیم ہے، مسافروں کے مطابق راجا نامی شخص نے 4 افراد کو آذربائیجان وزٹ ویزا پر بھجوانے اور ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے میں ملازمت دلوانےکے نام پر 18 لاکھ روپےطلب کیے، جن میں سے ابتدائی طور پر 14 لاکھ روپے ادا کیےگئے ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ کارروائی کے وقت صرف دو مسافر سفر کر رہے تھے جبکہ دیگر دو افراد بعد کے مرحلے میں روانہ ہونے والے تھے جبکہ مسافروں نے بتایا کہ رقم کی ادائیگی مسافر کے والد پولیس عہدیدار کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کے ذریعےکی گئی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ مالی معاملات، بینک ریکارڈ اور دیگر ملوث افراد کے کردارکی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، ابتدائی تحقیقات سےظاہر ہوتا ہےکہ معاملہ وزٹ ویزا کے ممکنہ غلط استعمال، غیرمجاز ایجنٹس کی سہولت کاری اور بیرون ملک روزگارکے نام پر رقم وصول کرنے سے متعلق ہے۔
ایف آئی اے حکام کی جانب سےتمام ملوث افراد کی شناخت، مالی لین دین کی تصدیق اور متعلقہ قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.