تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی بچت کی شرح 6.4 فی صد رہ گئی ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی بچت کی شرح 6.4 فی صد رہ گئی ہے۔ دیگر ملکوں سے موازنہ کریں تو کسی کی پانچ گنا، کسی کی 4 گنا زیادہ ہے۔ ویتنام تقریباً 30 فی صد بنگلہ دیش تقریباً 23 فی صد بچت، 1991 میں پاکستان کی مجموعی قومی بچت (GDP کے تناسب سے) تقریباً 17.4 فی صد کی بلند سطح پر تھی۔ اس وقت آٹا 3 سے ساڑھے تین روپے فی کلو اور ڈالر شاید 20 یا 22 روپے کا تھا۔ تین دہائی سے زائد عرصے میں بچت کا تقریباً ایک تہائی رہ جانا، ہو سکتا ہے ایک لحاظ سے یہ کمال کی بات ہو۔ کیونکہ مہنگائی اس وقت کے اعتبار سے کہیں 10 گنا اور کہیں 15 گنا سے زائد بڑھ چکی ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر آبادی کی اکثریت ملازم پیشہ، چھوٹے کسان، چھوٹے دکاندار وغیرہ ہیں۔ ان کو جو تنخواہ ملتی ہے بجلی کا بل دیکھ کر غریب سوچتا ہے دو پنکھے چل رہے ہیں اب ایک چلانا پڑے گا، صحن کا بلب اب بجھانا پڑے گا، تین وقت کا گیا زمانہ، اب دو وقت ہی کھانا کھانا پڑے گا۔ تین بچے اسکول کیوں پڑھ رہے ہیں، بڑے بچے کو کام پر لگانا پڑے گا۔ شام کو چھٹی ہوتی ہے تو کیا ہوا؟ بعد مغرب دو سے تین گھنٹے کسی ریڑھی والے کا مال بیچنا پڑے گا۔ جب تنخواہ کا ایک بڑا حصہ بجلی پانی اور ٹینکرز کا کرایہ ہزاروں کا گیس کا بل، 11 ماہ بعد کرائے میں ہزاروں روپے کا اضافہ، کھانے پینے کا بار بار فاقہ، جب یہ سب باتیں پاکستان کے 96 فی صد عوام پر گزرتی ہیں تو ایسی صورت حال میں 6 فی صد کی بچت غریب تو کر ہی نہیں سکتا، امیر و کبیر افراد کر سکتے ہیں۔
وہ بھی اگر لگژری گاڑی منگوانے سے کچھ رقم بچ گئی۔ مہنگا ترین درآمدی فرنیچر منگوانے میں کچھ تاخیر ہوئی تو وہ رقم بچت میں چلی جاتی ہے، شوق کے مطابق نیا قیمتی آئی فون درآمد نہ کر سکے تو شاید وہ رقم بچا کر بینک میں جمع کروا کر بھول گئے۔ بہرحال جو مالی حالات عوام کے چل رہے ہیں اس میں 6.4 فی صد کی بچت کوئی معمولی بات نہیں ہے البتہ آئندہ اس میں کمی کے امکانات زیادہ ہیں۔
بچت کیوں کم ہو رہی ہے، اس پر پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک خاتون خانہ اس پر سیر حاصل تبصرہ کر سکتی ہے جس کے کچن میں آئے روز کبھی آٹا ختم، کبھی گھی، کبھی چینی، کبھی پتی۔ مہمان آ جائے تو محلے کی دکان سے ادھار دودھ پتی منگوا کر چائے بنائے، رشتہ داروں سے ملنے جانا کرایوں میں اضافے کے باعث محال ہوا تو صرف ہیلو، ہیلو اور چند الفاظ بول کر موبائل بند کر دیا کیونکہ بیلنس ختم ہونے کا ڈر۔ پاکستان نے جب سے آئی ایم ایف سے ادھار لینے میں اضافہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایکسپریس اخبار کے قاری ذیشان احمد کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہمارے ملک کی زرعی پیداوار میں کس چیز کی کمی نہیں ہے، گندم وافر، گنا کبھی 7 کروڑ ٹن، کبھی 8 کروڑ ٹن، کپاس کی پیداوار اتنی زیادہ کہ ہم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔
کبھی چینی ایکسپورٹ کرتے ہیں، کوئلے کی پیداوار میں خودکفیل، تیل اور گیس کی بھی پیداوار ہو رہی ہے، اربوں روپے کے چاول برآمد کرکے بھی مچھلی کی بڑی مقدار برآمد کرتے ہیں جس سے کروڑوں ڈالر کما لیتے ہیں۔ گوشت، آم، کینو اور بہت سی اقسام کے پھل برآمد کر لیتے ہیں، پھر بھی ہر سال گندم، آٹا، چینی، چاول برآمد کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو ہر طرح کی زرعی پیداوار، چاروں موسم، دریا اور نہری پانی اور ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن پھر بھی مقروض ہیں۔
ان کے مطابق اتنی مہنگائی کے باوجود حکومت ہر شے پر ٹیکس وصول کر رہی ہے اور عوام پر ٹیکس لادے چلی جا رہی ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف سمجھتے ہیں کہ عوام کے پاس نوٹ چھاپنے کی مشین ہے، ان باتوں کے باعث جب ہر چیز سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے نفاذ کے باعث مہنگی ہوتی چلی جائے گی اور اس مہنگائی کے تناسب سے نہ ہی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا اور نہ ہی پنشن میں اضافہ کیا جائے گا، اور نہ ہی نجی ملازمین کی تنخواہوں میں اسی تناسب سے اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اتنی زیادہ مہنگائی کے باعث عام آدمی بچت کیسے کرے گا۔
جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور کی معاشی ترقی کے پیچھے ایک مشترکہ عنصر تھا، اور وہ تھا ’’قومی بچت‘‘ کا۔ انھوں نے پہلے بچت کی پھر سرمایہ کاری کی اور آخر میں خوشحالی آ گئی۔ اور پاکستان پہلے مرحلے میں بچت کو نظرانداز کر دیتا ہے اور آخری مرحلہ ترقی و خوشحالی لانے پر زور دیتا ہے اور معیشت کے افق پر جو بچت کا سورج ڈوبتا چلا جا رہا ہے اس پر کوئی تشویش نہیں، کوئی علاج نہیں، بچت بڑھانے کے اقدامات پر کوئی زور نہیں۔ بس صرف قرض کے خواب دیکھ رہے ہیں جو بچت کا سورج ابھرنے نہیں دیتے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.