جنوری میں امریکی فورسز وینزویلا کے صدر کو ان کے صدارتی محل سے گرفتار کرکے نیویارک لائی تھیں
امریکا کی جانب سے کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا ان کے ساتھ بھی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جیسا سلوک کیا جا سکتا ہے جنھیں امریکی فورسز وینزویلا سے گرفتار کرکے نیویارک لائی تھیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا راول کاسترو کو بھی مادورو کی طرح کیوبا سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
تو اس پر انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مقدمات میں ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں اس لیے دونوں معاملات کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
پریس کانفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا فردِ جرم عائد کیے جانے کے وقت اور امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ کے حالیہ دورۂ کیوبا کے درمیان کوئی تعلق ہے۔
جس پر اٹارنی جنرل نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ فردِ جرم اپریل کے آخر میں جاری کی گئی تھی اور اب مئی کے وسط میں اسے منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے بقول راول کاسترو جب 1996 میں کیوبا کے وزیر دفاع تھے تو ان کی منظوری سے 2 سویلین طیارے مار گرائے گئے تھے جس میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے پر راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش اور طیاروں کی تباہی کے الزامات پر مقدمہ چلایا گیا اور اب فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
راول کاسترو کے خلاف اس مقدمے کو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر کیوبا پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی کارروائی سے مماثلت رکھتا ہے جنھیں جنوری میں امریکی فورسز نے گرفتار کرکے امریکا منتقل کیا تھا۔
دوسری جانب کیوبا نے امریکی الزامات کو سیاسی دباؤ اور اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.