گلے چند گھنٹوں میں ایران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے، اسرائیل کو امریکی صدر نے مزید کارروائیوں سے روک دیا، رپورٹ
امریکی صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ چند گھنٹوں میں معاہدہ طے ہوسکتا ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کے بیروت پر حملے کی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ اگلے چند گھنٹوں میں ہوجائے گا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو سے تین گھنٹوں میں یہ پیشرفت ممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بیروت میں ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ بیروت پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے معاہدہ طے ہونے میں تاخیر ہوئی۔
امریکی صدر نے اسرائیلی حملوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ ایسے وقت میں یہ کارروائی کیوں کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف مزید کارروائیاں روکیں تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان نہ پہنچے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مزید فوجی اقدامات مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔
قبل ازیں امریکا کے صدر ٹرمپ نے امن معاہدے کو ممکنہ طور پر سبوتاژ کرنے کیلیے اسرائیل کے بیروت پر حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب معاہدہ طے ہونا ہے تو بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، تمام فریقوں کو صورتحال بہتر بنانے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اسرائیل کو خطرات کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے مگر جس کارروائی کے جواب میں حملہ کیا گیا وہ بہت محدود نوعیت کی تھی اور اس میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کے بعد امن معاہدے اور بات چیت کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک امن معاہدہ قریب ہے جو لبنان سمیت خطے میں امن کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی صدر نے حزب اللہ اور اسرائیل پر زور دیتے ہوئے حملے روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اب دونوں طرف سے مزید حملے نہیں ہونے چاہیئں اور موجودہ امن عمل کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.