Native World News

محدود مالی وسائل، وسیع ترجیحات: پنجاب کا متوازن بجٹ

محدود مالی وسائل، وسیع ترجیحات: پنجاب کا متوازن بجٹ

بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے گئے ہیں

مالیاتی دستاویزات محض آمدن و اخراجات کا حساب نہیں ہوتیں بلکہ وہ کسی حکومت کی ترجیحات، وژن اور عوام کے ساتھ اس کے تعلق کی آئینہ دار بھی ہوتی ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے 5903 ارب روپے حجم کا ٹیکس فری بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک مجموعی طور پر معاشی دباؤ، وسائل کی محدود دستیابی اور ترقیاتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں صوبائی بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے ایک طرف مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور دوسری جانب سماجی شعبوں کو نظر انداز نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

بجٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی انسانی سرمائے کی مضبوطی سے وابستہ ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہمارے ہاں انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کو اکثر سماجی ترقی پر فوقیت دی جاتی رہی، لیکن موجودہ مالی منصوبہ اس سوچ میں تدریجی تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے۔اسی طرح مقامی حکومتوں کے لیے 803 ارب 88 کروڑ روپے کی فراہمی بھی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ ترقی کا حقیقی مفہوم اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ شہری اور دیہی آبادیوں کو درپیش مسائل کا حل مرکزی دفاتر میں نہیں بلکہ مقامی سطح پر بہتر طور پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔

چنانچہ بلدیاتی اداروں کے لیے وسائل میں اضافہ نہ صرف انتظامی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ عوامی شرکت اور جوابدہی کے کلچر کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ اس بجٹ کا ایک اہم اور قابلِ ذکر پہلو وہ مالی حقیقت ہے جس کا تعلق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت دستیاب وسائل سے ہے۔ وفاقی مالیاتی تقسیم میں آنے والی تبدیلیوں اور دستیاب حصے میں نمایاں کمی کے باعث پنجاب کو اپنے ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنا پڑی۔ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1450 ارب روپے سے کم ہو کر 752 ارب روپے رہ جانا بظاہر ایک بڑا مالی دھچکا محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے جس انداز میں سماجی شعبوں، فلاحی منصوبوں اور عوامی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے، وہ ایک متوازن اور مربوط مالی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود عوامی ضروریات اور ترقیاتی اہداف کے درمیان توازن قائم رکھنا کسی بھی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ترجیحات کے دانشمندانہ تعین کی مثال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

نوجوان نسل کے لیے لیپ ٹاپ پروگرام اور ہونہار اسکالرشپ جیسے منصوبے امید کی نئی کرن ہیں۔ علم پر مبنی معیشت کے دور میں تعلیمی مواقع اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ترقی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ 27 ارب روپے کا لیپ ٹاپ پروگرام اور 15 ارب روپے کی اسکالرشپس اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت مستقبل کی افرادی قوت کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔زرعی شعبہ پنجاب کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنا اور کچی کپاس پر عائد کاٹن فیس کا خاتمہ کاشتکاروں کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ سماجی تحفظ کے حوالے سے بھی بجٹ میں چند مثبت پہلو موجود ہیں۔ مفت ادویات کے لیے 82 ارب 80 کروڑ روپے اور رمضان پیکیج کے لیے 37 ارب روپے مختص کرنا کم آمدنی والے طبقات کی مشکلات کم کرنے کی کوشش ہے۔

اگرچہ مہنگائی کے موجودہ ماحول میں یہ اقدامات تمام مسائل کا حل نہیں، تاہم ریاست کی فلاحی ذمے داری کے اظہار کے طور پر ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور بنیادی ضروریات تک رسائی آسان بنانا حکومت کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ محدود مالی وسائل، ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی اور معاشی دباؤ کے باوجود سماجی شعبوں کے تحفظ اور عوامی بہبود کے تسلسل کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس میں کئی مثبت پہلو موجود ہیں اور چند ایسے نکات بھی ہیں جو مستقبل میں مزید توجہ اور اصلاح کے متقاضی ہوں گے۔ اصل امتحان اب اعداد و شمار کے اعلان میں نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے، اگر شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو یقینی بنایا گیا تو یہ مالی منصوبہ پنجاب کی ترقی اور عوامی خوش حالی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2818023/mahdood-mali-wasail-wasee-tarjeehaat-punjab-ka-mutawazan-budget-2818023

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.