Native World News

ٹرمپ کا دورہ چین

ٹرمپ کا دورہ چین

چین اس جنگ کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دور چین محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کا ایک اہم اشارہ ہے۔ بظاہر یہ دورہ تجارت، ٹیرف، ٹیکنالوجی اوردوطرفہ تعلقات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے،مگر حقیقت میں اس کے پس منظر میں ایران جنگ، تیل کی عالمی سیاست، تائیوان کا مسئلہ،عالمی معیشت، اور مستقبل کا عالمی طاقت کا توازن چھپا ہوا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ چین کیوں گئے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ چین کو نظر انداز کر کے عالمی بحران حل نہیں کیے جا سکتے؟چند برس پہلے تک امریکا چین کو صرف ایک معاشی حریف سمجھتا تھا، مگر آج صورتحال بدل چکی ہے۔

اب چین صرف ایک اقتصادی طاقت نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران جنگ کے دوران واشنگٹن کو بالآخر بیجنگ کی طرف دیکھنا پڑا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔

تیل کی قیمتیں بڑھیں، اسٹاک مارکیٹیں غیر مستحکم ہوئیں اور دنیا کو احساس ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن چکی ہے۔

ٹرمپ اس امید کے ساتھ چین پہنچے تھے کہ شاید بیجنگ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور جنگ بندی یا کم از کم کشیدگی میں کمی لانے میں مدد دے۔ کیونکہ آج ایران کی معیشت کا ایک بڑا سہارا چین ہے، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار بھی ہے۔

مگر بظاہر چین نے فوری طور پر امریکی خواہشات کے مطابق کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔ یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین آخر امریکا کی مدد کیوں کرے؟

چین اس جنگ کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔ جتنا امریکا مشرقِ وسطیٰ میں الجھا رہے گا، اتنا ہی چین کو ایشیا، افریقہ اور عالمی معیشت میں اپنے اثرات بڑھانے کا موقع ملے گا۔

چین جانتا ہے کہ امریکا ایک ہی وقت میں ایران، روس اور چین کے خلاف مکمل محاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ محتاط سفارت کاری اختیار کر رہا ہے نہ مکمل مخالفت، نہ مکمل حمایت۔

دوسری طرف ٹرمپ بھی اس دورے کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اب بھی عالمی سیاست کے ‘‘Deal Maker’’ ہیں۔ ان کے لیے یہ دورہ امریکی داخلی سیاست میں بھی اہم تھا کیونکہ امریکا میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور جنگی اخراجات پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دورے سے فوری طور پر کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا۔ نہ ایران کے حوالے سے کوئی واضح معاہدہ ہوا، نہ تائیوان پر اختلافات کم ہوئے، نہ ہی امریکا اور چین کے درمیان اعتماد بحال ہو سکا۔

اس کے باوجود اس ملاقات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں عالمی طاقتیں ایک دوسرے سے بات چیت پر مجبور ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ امریکا اب اکیلا عالمی فیصلے نہیں کر سکتا۔ چین اب ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کے کے حوالے سے اس صورتحال میں کئی اہم پہلو موجود ہیں۔ اگر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان کو معاشی اور سفارتی فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو دونوں طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ پاکستان چین کے ساتھ CPEC اورامریکا کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کومتوازن کر سکتا ہے۔

امتحان اس لیے کہ آنے والے برسوں میں عالمی سیاست ایسا رخ اختیار کرسکتی ہے کہ ممالک کے لیے ‘‘غیر جانبداری’’ کی زیادہ گنجائش نہ رھے۔اسی طرح اگر ایران جنگ لمبی ہوتی ہے تو پاکستان پر اس کے براہِ راست اثرات پڑ سکتے ہیں:

تیل مہنگا ہوگا،مہنگائی بڑھے گی،خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز متاثر ہوسکتے ہیں،اور داخلی سیکیورٹی کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔اسی لیے پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ وہ بلاک سیاست سے دور رہے اور معاشی استحکام، سفارتی توازن اور داخلی یکجہتی پر توجہ دے۔

دنیا اس وقت ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، توانائی اور معلومات کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ کا دور? چین دراصل اسی نئی عالمی سیاست کی علامت ہے۔

ایک ایسی دنیا جہاں دشمن بھی ایک دوسرے سے مذاکرات پر مجبور ہیں کیونکہ عالمی بحران اب کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں رہے۔ ممکنہ طور پر اس دورے کا سب سے بڑا پیغام یہی کہ دنیا بدل رہی ہے، طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے، اور آنے والے برسوں میں وہی ممالک کامیاب ہوں گے جو جذبات کے بجائے حقیقت پسندی، معیشت اور دانشمندانہ سفارت کاری کو ترجیح دیں گے۔

Source: https://www.express.pk/story/2813401/trumps-visit-to-china-2813401

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.