81 منٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران طیارے نے آواز کی رفتار کی حد توڑتے ہوئے 713 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی
ناسا کے 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے جدید سپرسونک طیارے (جسے ’سن آف کونکورڈ‘کا لقب دیا جا رہا ہے) نے پہلی بار کامیابی سے آواز کی رفتارعبور کر لی ہے۔ آزمائشی پرواز کے دوران یہ طیارہ 700 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے فضا میں دوڑا اور ایک اہم سنگِ میل عبور کر گیا۔
یہ کامیابی مستقبل میں لندن سے نیویارک کے درمیان انتہائی تیز رفتار فضائی سفر کی واپسی کی جانب پہلا بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے۔
اس طیارے کے ذریعے بحرِ اوقیانوس کا سفر چار گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہو سکے گا، جو 2003 میں مشہور سپرسونک طیارے کونکورڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار ہوگا۔
جمعے کے روز ہونے والی 81 منٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران طیارے نے آواز کی رفتار کی حد توڑتے ہوئے 713 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔
یہ تاریخی پرواز امریکی فضائیہ کے سابق تجربہ کار پائلٹ جم ’کِلو‘ لیس نے انجام دی، جنہوں نے طیارے کو 43 ہزار 400 فٹ کی بلندی تک پہنچایا۔
ماہرین کے مطابق سطحِ سمندر پر آواز کی رفتار توڑنے کے لیے تقریباً 760 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار درکار ہوتی ہے۔ تاہم، 40 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر 660 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی سپرسونک حد عبور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.