Native World News

ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں دلچسپ دریافت

ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں دلچسپ دریافت

یہ دریافت زمین سے 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہوئی ہے

ناسا کی چندرا ایکس رے آبزرویٹری نے ہماری ملکی وے کہکشاں کے عین مرکز میں ایک نہایت دلچسپ مقام پر ممکنہ طور پر ایک نئے سپرنووا کے باقیات دریافت کی ہیں۔

سپرنووا کے باقیات دراصل اُن ستاروں کے پھیلتے ہوئے ملبے ہوتے ہیں جو عظیم دھماکے سے پھٹ چکے ہوتے ہیں۔ یہ باقیات فولاد، آکسیجن اور سلیکون جیسے اہم عناصر خلا میں بکھیرتے ہیں، جو سیاروں کی تشکیل اور زندگی کے وجود اور نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر اس نئی دریافت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ سپرنووا باقیات ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکزی خطے میں موجود دیوقامت بلیک ہول کے قریب ترین دریافت ہونے والی سپرنووا باقیات میں سے ایک ہوں گی۔

کہکشاں کا یہ مرکزی علاقہ انتہائی پراسرار اور غیر معمولی ہے، جہاں بے شمار دیوقامت ستارے موجود ہیں، مقناطیسی فیلڈز کے طویل دھاگے نما ڈھانچے پھیلے ہوئے ہیں اور گیس کے گھنے بادل نہایت تیز رفتاری سے گلیکٹک سینٹر کے گرد گردش کر رہے ہیں۔

اس خطے کی نئی جامع تصویر چندرا اور یورپین اسپیس ایجنسی کے ایکس ایم ایم-نیوٹن مشن (نیلے رنگ میں) سے حاصل شدہ ایکس رے، مِیر کیٹ دوربین کے ریڈیو ڈیٹا (سرخ رنگ) اور پین اسٹارز کی آپٹیکل تصاویر (سرخم سبز اور نیلے رنگوں میں) سے یکجا کر کے بنائی گئی ہے۔

اس سپر نووا کی باقیات زمین سے 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔

Source: https://www.express.pk/story/2817517/nasas-chandra-discovers-2817517

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.