اس منصوبے کیلیے مالی سال 2026-2027 کے بجٹ میں 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی کے اخراجات کم ہوں گے، ترجمان
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پائیدار شہری ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری اور توانائی کے مؤثر استعمال کے فروغ کے لیے آئندہ مالی سال 2026-2027 میں ایک جامع سولرائزیشن منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایات کے تحت کے ایم سی شہر بھر میں یونین کونسلوں کی گلیوں، بلدیاتی عمارتوں اور منتخب شاہراہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرے گی، جس کے لیے مالی سال 2026-2027 کے بجٹ میں 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد روایتی بجلی کے ذرائع پر انحصار کم کرنا، بلدیاتی اخراجات میں کمی لانا، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور خصوصاً بجلی کی بار بار بندش سے متاثرہ علاقوں میں شہری سہولیات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اس منصوبے سے کراچی کے کاربن اخراج میں نمایاں کمی اور بلدیاتی امور کی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔ اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سولرائزیشن پروگرام شہری انفراسٹرکچر کی جدید خطوط پر ترقی اور ماحول دوست اقدامات کے فروغ کے لیے کے ایم سی کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور توانائی کا پائیدار نظام اب انتخاب نہیں بلکہ ذمہ دار شہری نظم و نسق کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے کے ایم سی بجلی کے اخراجات میں کمی، کاربن اخراج کو محدود کرنے اور کراچی کے شہریوں کو قابلِ اعتماد بلدیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کی جانب کے ایم سی کا سفر دو سال قبل شہر بھر میں اسٹریٹ لائٹنگ کے ایک بڑے پروگرام سے شروع ہوا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ہر یونین کمیٹی کو بغیر کسی سیاسی تفریق کے تقریباً 50 اسٹریٹ لائٹس فراہم کی گئیں۔ موجودہ مالی سال کے دوران کراچی میں اسٹریٹ لائٹنگ کے نظام کی تنصیب اور بہتری پر 11 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شارع فیصل، شاہراہِ فردوسی اور شاہراہِ ایران سمیت اہم شاہراہوں پر روشنی اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے نمایاں کام کیے گئے ہیں، جن کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور شہر کی خوبصورتی و عوامی سہولت میں اضافہ ہوا ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہماری ترقیاتی پالیسی ہمیشہ واضح رہی ہے کہ کراچی کے ہر شہری کی یکساں خدمت کی جائے۔ ہم حکومت اور اپوزیشن کے علاقوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ میری واحد وابستگی کراچی اور اس کے عوام سے ہے۔ کے ایم سی کا ہر منصوبہ صرف شہریوں کی ضروریات اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیداری کے اقدامات کے تحت کے ایم سی اپنے مرکزی دفتر کے بعض حصوں کو پہلے ہی شمسی توانائی پر منتقل کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے اخراجات میں نمایاں بچت اور ماحولیاتی اثرات میں کمی آئی ہے۔ انہی مثبت نتائج کی بنیاد پر اس ماڈل کو مزید کے ایم سی دفاتر، یونین کونسل کی عمارتوں اور عوامی انفراسٹرکچر تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے خصوصاً دور دراز اور بجلی پر زیادہ انحصار کرنے والے علاقوں کو فائدہ پہنچے گا جہاں لوڈشیڈنگ معمولاتِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ شمسی توانائی سے چلنے والی بلدیاتی سہولیات اور اسٹریٹ انفراسٹرکچر بلدیاتی اداروں کی خودمختاری، خدمات کی فراہمی اور عوامی سہولت میں مزید بہتری لائیں گے۔
میئر کراچی نے کہا کہ ماضی کے برعکس، جب متعدد ترقیاتی منصوبے صرف اعلانات اور فائلوں تک محدود رہ جاتے تھے، موجودہ کے ایم سی انتظامیہ نے عملی نفاذ اور نتائج پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ہماری کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے وعدوں کو عملی شکل دی ہے اور ہر شعبے میں نمایاں نتائج فراہم کیے ہیں۔ چاہے انفراسٹرکچر کی ترقی ہو، سڑکوں کی بحالی، پارکس، اسٹریٹ لائٹنگ، ڈیجیٹل گورننس، ریونیو اصلاحات یا بلدیاتی خدمات، آج کی کے ایم سی چند سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ادارہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار سے ورثے میں ملنے والے تقریباً انہی وسائل کے باوجود کے ایم سی نے خدمات کے معیار کو بہتر بنایا، شفافیت کو فروغ دیا، ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی اور بلدیاتی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کیا ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.