شام کے پہاڑی علاقے گولان کو تو اسرائیل پہلے ہی انیس سو اسی میں باضابطہ ہضم کر چکا ہے۔
ہم اسی پر خوش ہیں کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جنوبی لبنان میں جنگ تیز کرنے پر کئی بار ننگی ننگی سنائیں کیونکہ نیتن یاہو اس حرکت سے ایران امریکا ممکنہ سمجھوتہ سبوتاژ کرنا چاہ رہا ہے۔نیتن یاہو نے بظاہر ٹرمپ کی انا کی وقتی تسکین کے لیے جنوبی بیروت پر حملہ نہ کرنے کا ’’ احسان ‘‘ کر دیا مگر اصل مقصد سے نیتن یاہو پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوا یعنی جنوبی لبنان کو ’’ لبنانیوں سے پاک ‘‘ بفر زون بنانا۔
حالانکہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت میں واضح طور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جامع اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم وہاں اسرائیلی فوج اسی طرح پنجے گاڑنا چاہتی ہے جس طرح انیس سو سڑسٹھ سے اب تک مغربی کنارے اور غزہ پر گاڑے ہیں۔پھر اس بفر زون میں یہودی آبادکاری کی بنیاد ڈالی جائے گی اور جیسے جیسے دنیا ان حالات کی عادی ہوتی چلی جائے گی مغربی کنارے کی طرح جنوبی لبنان کو بھی غیر اعلانیہ ہڑپ کیا جائے گا۔
مغربی کنارہ مرحلہ وار ہتھیانے کے لیے پہلے پی ایل او کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔پھر اسے لالی پاپ دیا گیا کہ مسلح جدوجہد ترک کرنے کی صورت میں ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے امکان پر غور ہو سکتا ہے۔جب پی ایل او نے ہتھیاروں سے تائب ہونے کا فیصلہ کیا تو رفتہ رفتہ اسے اسرائیل نے بی ٹیم کے طور پر قبول کر لیا ۔آج مغربی کنارے پر تیز رفتار یہودی آبادکاری جاری ہے اور فلسطینی اتھارٹی علاوہ رسمی چیخ و پکار کچھ نہیں کر پا رہی۔
بالکل اسی فارمولے کے تحت غزہ میں ’’ دہشت گرد حماس ‘‘ کے دانت نکالنے کی کوشش زوروں پر ہے اور بعینہہ لبنان میں اسرائیل کو منہ دینے والی واحد تنظیم حزب اللہ سے ہتھیار رکھوانے کی بھرپور امریکی اسرائیلی کوشش ہو رہی ہے۔ لاچار لبنانی حکومت کو اسی طرح گھٹنوں کے بل بٹھا کر استعمال کیا جا رہا ہے جس طرح پی ایل او کو فلسطینی اتھارٹی کا باجا تھما کر دیگر مزاحتمی گروہوں کو نیوٹرل بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
شام کے پہاڑی علاقے گولان کو تو اسرائیل پہلے ہی انیس سو اسی میں باضابطہ ہضم کر چکا ہے۔اب گولان سے نیچے کے شامی علاقوں کو بھی بنا ڈکار نگلنے کی پوری تیاری ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت چند مرکزی وزرا کی شہہ پر مغربی کنارے کے مسلح یہودی آباد کار جس طرح فلسطینیوں کو کھدیڑ رہے ہیں ، زمینوں اور باغات پر قبضہ کر رہے ہیں ، مال مویشی اور دیگر املاک لوٹ رہے ہیں ، زیر استعمال چشموں کو آلودگی سے بھر رہے ہیں اور زیتون کے درخت کاٹ یا جلا رہے ہیں۔یہ دو چار سرکردہ غنڈوں یا کچھ منظم گروہوں کی حرکت نہیں بلکہ منظم ریاستی پالیسی ہے۔
جون انیس سو سڑسٹھ میں مغربی کنارے پر ایک بھی یہودی بستی نہیں تھی۔ آج ڈیڑھ سو باقاعدہ اور ایک سو اٹھائیس بے قاعدہ بستیوں میں دنیا بھر سے لائے گئے لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ یہودی آبادکار بسائے جا چکے ہیں۔ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے ایک سو سترہ مزید گاؤں کلی یا جزوی طور پر خالی کروا لیے گئے یعنی پہلے سے دربدر لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں میں مزید چالیس سے پچاس ہزار کا اضافہ ہو چکا ہے۔
ساٹھ فیصد مغربی کنارہ پہلے ہی ایریا سی کے نام پر اسرائیل کے مکمل قبضے میں ہے۔یہاں صدیوں سے آباد بدو کمیونٹی کو مسلح یہودی آباد کاروں اور فوج نے مل کر ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی دو ہزار چوبیس اور فروری دو ہزار پچیس میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے پولیس اور فوج کو دو بار حکم دیا کہ وہ مقامی آبادی کا مسلح آبادکار حملوں سے تحفظ کرے اور گھروں کو واپسی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔
ان اعلی عدالتی احکامات پر عمل تو خیر کیا ہوتا الٹا مسلح آبادکاروں کے حملوں میں تیزی آ گئی اور آج اوسطاً پانچ حملے روزانہ ہو رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے ایریا سی میں فلسطینی زمینیں ہتھیانے والے آباد کاروں کو سالانہ چھپن لاکھ ڈالر کی اضافی امداد اس شرط پر ملتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد صدیوں سے آباد فلسطینیوں کی کسی بھی ’’ غیر قانونی تعمیراتی سرگرمی ‘‘ کی فوری مخبری کریں گے۔
فلسطینیوں سے مغربی کنارہ خالی کرانے کی رفتار کچھ یوں ہے کہ دو ہزار بائیس میں مقامی فلسطینی آبادیوں پر آٹھ سو باون ، دو ہزار تئیس میں بارہ سو اکیانوے ، دو ہزار چوبیس میں چودہ سو انچاس اور دو ہزار پچیس میں اٹھارہ سو اٹھائیس حملے ہوئے۔جب کہ موجودہ سال کے پہلے چار ماہ میں تقریباً ساڑھے پانچ سو حملے ہو چکے ہیں اور سال ختم ہونے میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں۔
ان حملوں کی ہر اسرائیلی حکومت ڈھکے چھپے انداز میں پشت پناہی کرتی رہی ہے مگر اب دیدہ دلیری عام ہے۔
گذشتہ برس اپریل میں وزیرِ خزانہ بیزلل سموترخ اور ان کے ساتھی وزیرِ اوریت سٹروک نے الخلیل ( ہیبرون)کے نزدیک ایک خصوصی تقریب میں آبادکاروں میں باقاعدہ فوجی استعمال کے جدید ہتھیار تقسیم کیے اور نقل و حرکت کے لیے فوجی طرز کی متعدد گاڑیاں عطیہ کیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ’’ یہاں بسنے والے بہادر آبادکار صیہونیت کے سپاہی ہیں۔ہم اس سرزمین کو آباد کرنے کے کام میں ان کے شانہ بشانہ ہیں ‘‘۔
اگر کسی فلسطینی سے پتھر یا غلیل بھی برآمد ہو جائے تو فوراً جیل بھیج دیا جاتا ہے مگر گذشتہ تین برس میں یہودی آبادکاروں کو جدید ہتھیاروں کے تقریباً ایک لاکھ لائسنس جاری کیے گئے۔اس برس کے پہلے چار ماہ میں یہ یہودی آبادکار تیرہ فلسطینی کسانوں کو قتل اور سیکڑوں کو زخمی کر چکے ہیں۔
اپریل میں اسرائیلی کابینہ نے ایک ہی دن میں چونتیس نئی بستیاں بسانے کی ریکارڈ منظوری دی۔ دو ہزار بائیس سے اب تک ایک سو تین نئی بستیوں کے اجازت نامے جاری ہو چکے ہیں اور تعمیراتی ڈھانچے کے لیے تین سو اڑتیس ملین ڈالر کا بجٹ بھی مختص ہو چکا ہے۔اس عرصے میں تئیس ہزار فلسطینی حراست میں لیے گئے اور جب یہودی آبادکاروں نے ان کی املاک پر قبضہ کر لیا یا تباہ کر دیا تو بیشتر کو رہا کر دیا گیا۔
کچھ عرصہ پہلے تک امریکا کے چند اسرائیل نواز ایوانجلیکل چرچ اور یہودی سینوگوگ مقبوضہ مغربی کنارے کی غصب شدہ زرعی و رہائشی زمین کی نیلامی کے لیے بدنام تھے۔آج ’’ مائی ہوم ان اسرائیل ‘‘ نامی ایک ااسٹیٹ ایجنسی کھلم کھلا شمالی امریکا اور یورپ میں ’’گریٹ اسرائیلی رئیل اسٹیٹ ایونٹ ‘‘ کے نام سے روڈ شوز منعقد کررہی ہے۔ایک جانب برسرِاقتدار برطانوی لیبر پارٹی کے ایک تہائی ارکانِ پارلیمان نے وزیرِ اعظم کئیر اسٹارمر سے مقبوضہ یہودی بستیوں سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا تحریری مطالبہ کیا اور دوسری جانب لندن میں مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں اور پلاٹوں کو مذکورہ بالا ااسٹیٹ ایجنسی کھلم کھلا فروخت کر رہی ہے۔
گذشتہ برس اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ریاستِ اسرائیل میں باقاعدہ ضم کرنے کی قرار داد دو بار منظور کی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہونے دیں گے۔چنانچہ یہی کام اب غیر اعلانیہ انداز میں جاری ہے۔
اب تک جنوبی لبنان کے کم از کم چھ قصبات غزہ اسٹائل میں بلڈوزروں سے مٹا دئیے گئے ہیں۔دس ہزار سے زائد رہائشی و کاروباری املاک تباہ کر دی گئی ہیں روزانہ چار چھ دیہاتوں کو خالی کرنے کا حکم جاری ہو رہا ہے۔ساڑھے تین ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔طائر اور نباتیہ جیسے تاریخی شہروں کو مرحلہ وار برباد کیا جا رہا ہے۔ہدف یہ ہے کہ ان علاقوں سے جو ایک ملین سے زائد لبنانی نکل چکے ہیں وہ واپس نہ آ سکیں۔یوں خالی زمین نئی یہودی بستیوں کے تصرف میں آ سکے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.