این سی سی آئی اے بھی بغیر وجہ صارف کا بینک اکائونٹ بلاک یا فریزکرنے کی درخواست نہیں کر سکتا،جسٹس ارباب طاہر
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینک بغیر مصدقہ قانونی وجہ کے شہریوں کے بینک اکا ئونٹس بلاک یا منجمد نہیں کر سکتے، این سی سی آئی اے بھی بغیر وجہ کسی صارف کا بینک اکاؤنٹ بلاک یا فریزکرنے کی درخواست نہیں کر سکتا۔
عدالت نے کہا مناسب ہے کہ سٹیٹ بینک مستقبل میں بغیر وجہ اکاؤنٹ بلاک کرکے شہریوں کو متاثرکرنے سے روکنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے اور تمام بینکوں کو احتیاطی تدابیر سے متعلق گائید لائن جاری کرنے پر غورکرے۔
عدالت نے بغیر وجہ اپنی مرضی سے بینک اکا ئونٹ بلاک کرنے کی غلطی تسلیم کرنے پرکہا کہ نجی بینک صارف کی قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے تین لاکھ روپے کے اخراجات ادا کرے۔
جسٹس ارباب طاہر نے این سی سی آئی اے انکوائری کے دوران شہری کے اکاؤنٹ کو از خود بلاک کرنے کیخلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے کہا این سی سی آئی اے نے شہری کے بینک کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ای میل کی،بینک نے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ازخود اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔
بینک نے بے وجہ اکاؤنٹ بلاک کیا جس سے شہری کو عدالت آنا پڑا،بینک ایک ماہ میں تین لاکھ روپے درخواستگزرا کو ادا کر کے عملدرآمد رپورٹ جمع کرائے۔
اسٹیٹ بینک مستقبل میں بغیر وجہ اکاؤنٹ بلاک کرکے شہریوں کو متاثر کرنے سے روکنے کے اقدامات اٹھاتے ہوئے نجی بینکوں کو واضح کرے کہ قانونی جوازکے بغیر بینک اکاونٹ کے استعمال سے روکا نہیں جا سکتا۔
اسٹیٹ بینک میکنزم بنا سکتا کہ کسی اکاؤنٹ ہولڈرزکو غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہونے کو یقینی بنایا جا سکے،کوئی بھی شخص مضبوط قانونی وجہ کے بغیر اپنی پراپرٹی تک رسائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.