بجلی کی مسلسل اور بار بار بندش نے نہ صرف معمولاتِ زندگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کر رکھا ہے
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں جاری شدید گرمی اور حبس کے دوران طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں انتہائی حد تک اضافہ کر دیا ہے۔
عروس البلاد کہلانے والے اس شہر میں بجلی کی آنکھ مچولی معمول بن چکی ہے، جس سے ہزاروں روپے کے بھاری بل ادا کرنے والے صارفین شدید پریشان ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ جن علاقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، وہاں بھی بجلی کی مسلسل اور بار بار بندش نے نہ صرف معمولاتِ زندگی بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
کیماڑی، کھارادر، لیاری، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، سعید آباد، ناظم آباد اور گلشن اقبال سمیت درجنوں علاقوں میں کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ شہریوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔
علاوہ ازیں لیاقت آباد سی ون ایریا، گلبہار، رضویہ اور پاک کالونی کے مکین بھی شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش کے باعث شدید اذیت کا شکار ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید حبس کے دوران طویل لوڈشیڈنگ نے زندگی مشکل بنا دی ہے، جبکہ بجلی نہ ہونے پر پانی کی فراہمی بھی معطل ہو جاتی ہے جو کہ ایک اضافی بحران ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیں اور بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل یقینی بنائیں۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے تکنیکی مسائل اور لائن لاسز کو بجلی کی فراہمی میں تعطل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تاہم شہریوں کا موقف ہے کہ وہ ان روایتی وضاحتوں سے مطمئن نہیں اور انہیں فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل اعلانات کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.