Native World News

فارماسیوٹیکل اے آئی میں اونٹولوجیکل فرگمنٹیشن کا مسئلہ اور اس کا حل

فارماسیوٹیکل اے آئی میں اونٹولوجیکل فرگمنٹیشن کا مسئلہ اور اس کا حل

اگر ہم فارماسیوٹیکل دنیا میں موجود علمی انتشار پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تو دوائیں محفوظ اور قابلِ اعتماد ہوں گی

تصور کیجیے کہ آپ کا اپنا بچہ ADHD ، یعنی ’توجہ کی کمی‘ اور ’غیر معمولی بے چینی‘ کے عارضے کا مریض ہے ۔ ڈاکٹر نے Concerta نامی دوا تجویز کی ہے جو آہستہ آہستہ اثر کرنے والی گولی ہے۔ برانڈ والی گولی استعمال کرنے کے بعد بچہ نسبتاً پرسکون رہتا ہے، اسکول میں توجہ بہتر ہوتی ہے اور روزمرہ زندگی میں استحکام محسوس ہوتا ہے۔

پھر ایک دن فارمیسی سے اسی دوا کا جنیرک متبادل ملتا ہے۔ کاغذوں میں سب کچھ درست نظر آتا ہے۔ فعال جز وہی ہے، خوراک بھی وہی لکھی ہے اور ریگولیٹری ادارے اسے مساوی قرار دے چکے ہیں۔ لیکن دوپہر کے بعد بچہ دوبارہ بے چین ہونے لگتا ہے۔ توجہ منتشر ہو جاتی ہے، جھنجھلاہٹ بڑھ جاتی ہے اور وہی پرانی مشکلات لوٹ آتی ہیں۔ والدین پریشان ہوجاتے ہیں، ڈاکٹر حیران رہ جاتا ہے مگر فارمیسی سے، ادویہ ساز کمپنی سے، گورنمنٹ کے اداروں سے جواب ملتا ہے کہ آپ غلط ہیں، آپ کا مشاہدہ غلط ہے ’’دونوں ادویات ایک جیسی ہی ہیں‘‘۔

یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ۔ 2014 سے 2016 کے درمیان امریکا میں یہی صورتحال پیدا ہوئی۔ ADHD کے علاج میں استعمال ہونے والی Concerta کے دو جنیرک ورژنز (جنہیں Mallinckrodt اور Kudco تیار کر رہی تھیں) کے بارے میں مریضوں، والدین اور معالجین نے شکایات درج کرائیں کہ ان کا اثر اصل دوا جیسا نہیں۔ ابتدا میں امریکی ریگولیٹری ادارے FDA نے انہیں اصل دوا کے مساوی تسلیم کیا تھا مگر بعد میں حقیقی دنیا کے تجربات، مریضوں کی رپورٹس اور مزید تجزیے سامنے آنے پر ایف ڈی اے کو ان مصنوعات کی درجہ بندی کم کرنا پڑی اور ان کی Interchangeability پر نظرثانی کرنا پڑی۔ یہ واقعہ دواؤں کی دنیا میں موجود ایک گہری خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

آج کی بہت سی دوائیں محض کیمیائی مرکبات نہیں رہیں بلکہ پیچیدہ انجینئرنگ کی مثال بن چکی ہیں۔ ان میں ایسے نظام شامل ہوتے ہیں جو دوا کو جسم میں مخصوص رفتار سے خارج کرتے ہیں۔ Concerta کی مثال لیجیے۔ اس میں ایک خاص اوسومٹیک ڈیلیوی سسٹم استعمال ہوتا ہے، جس میں پہلے تھوڑی مقدار جلدی خارج ہوتی ہے اور پھر باقی دوا پورے دن کے دوران بتدریج جسم میں پہنچتی رہتی ہے۔ اگرچہ بعض جنیرک مصنوعات میں فعال جز وہی ہوتا ہے مگر ان کی اندرونی ساخت اور دوا خارج کرنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً مریض کو ملنے والا عملی فائدہ تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہاں ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ریگولیٹری نظام اکثر ادویات کو وسیع اصطلاحات، مثلاً ایکسٹینڈڈ ریلیز کی بنیاد پر درجہ بند کرتے ہیں۔ جب مختلف حیاتیاتی اور انجینئرنگ خصوصیات رکھنے والی مصنوعات کو ایک ہی تصوراتی خانے میں رکھ دیا جاتا ہے تو کاغذی مساوات اور حقیقی نتائج میں فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی کیفیت کو ہم اونٹولوجیکل فرگمنٹیشن یا علمی انتشار کہہ سکتے ہیں۔ یعنی علم کے مختلف حصے ایک دوسرے سے اس طرح کٹ جاتے ہیں کہ ان کے درمیان موجود اہم فرق فیصلہ سازی میں نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بعض اوقات اونٹولوجیکل ڈرفٹ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یعنی وہ چیز جو کاغذوں میں درست دکھائی دیتی ہے، عملی دنیا میں مختلف ثابت ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی ایک اور مثال ’’وارفرن‘‘ ہے، جو خون کو پتلا رکھنے والی دوا ہے۔ اس میں معمولی فرق بھی مریض کے لیے خون جمنے یا غیر ضروری خون بہنے کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف روایتی مساواتی پیمانے کافی نہیں رہتے بلکہ حقیقی طبی نتائج کو بھی اہمیت دینا ضروری ہوجاتا ہے۔

یہاں مصنوعی ذہانت ایک نئے امکان کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ہمیں اے آئی کو صرف سوالوں کے جواب دینے والا نظام نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ایسا معاون بنانا چاہیے جو تضادات کی نشاندہی کر سکے۔ اس مقصد کے لیے Forced-Contradiction Retrieval جیسے تصورات اہم ہو سکتے ہیں جہاں ریگولیٹری دعووں، دوا کے اندرونی میکانزم، سائنسی شواہد اور مریضوں کے حقیقی تجربات کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر جانچا جائے۔ اگر مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات میں نمایاں تضاد پیدا ہو تو سیمنٹک فرکشن یا ’’معنوی رگڑ‘‘ کا ایک اشاریہ خبردار کرسکتا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اگر اس نوعیت کے نظام ایک دہائی پہلے موجود ہوتے تو ممکن ہے کہ Concerta کے بعض جنیرک ورژنز سے متعلق خدشات بہت پہلے سامنے آ جاتے۔ مریضوں کی شکایات، لیبارٹری ڈیٹا اور فارماکولوجیکل خصوصیات کو یکجا کرکے خطرات کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی تھی۔ اسی طرح اگر کسی درد کش دوا کا ایک ورژن بارہ گھنٹے آرام فراہم کرتا ہو اور دوسرا صرف چار گھنٹے تو مصنوعی ذہانت ان فرقوں کو جلدی شناخت کرکے معالجین اور ریگولیٹرز کی توجہ اس جانب مبذول کرا سکتی ہے۔

اس تصور کو سمجھنے کے لیے فارماسیوٹیکل ٹرسٹ ٹرائی اینگل کی ایک سادہ مثال بھی مددگار ہے۔ اس مثلث کے تین ستون ہیں: ریگولیٹرز، مینوفیکچررز اور مریض۔ ریگولیٹرز کی ذمے داری شفاف اور شواہد پر مبنی فیصلے کرنا ہے۔ مینوفیکچررز کی ذمے داری معیاری اور قابلِ اعتماد مصنوعات تیار کرنا جبکہ مریضوں کے حقیقی تجربات کو بھی سائنسی شواہد کا ایک اہم جزو سمجھا جانا چاہیے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ستون کمزور پڑ جائے تو پورا نظام عدم اعتماد کا شکار ہوجاتا ہے۔

فارما 5.0 کا تصور اسی سمت میں ایک پیش رفت ہے۔ یہ انسان مرکز نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت صرف رفتار بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر فہم پیدا کرنے کا آلہ بنتی ہے۔ اس نظام میں سائنس، ریگولیشن اور مریض کے تجربے کو ایک مربوط فریم ورک میں دیکھا جاتا ہے۔ دواؤں کی منظوری اب محض فائلوں پر دستخط کرنے کا عمل نہیں رہ گئی۔ ہمیں ایسے ذہین نظام درکار ہیں جو سوال اٹھا سکیں، پوشیدہ تضادات تلاش کرسکیں اور مریضوں کی بھلائی کو فیصلہ سازی کے مرکز میں رکھ سکیں۔

اگر ہم فارماسیوٹیکل دنیا میں موجود اس علمی انتشار پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تو جنیرک دوائیں صرف سستی ہی نہیں بلکہ واقعی محفوظ ، مؤثر اور قابلِ اعتماد بھی ہوں گی۔ اس سے مریضوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور ہم فارما 5.0 کی اس منزل کے قریب پہنچ جائیں گے جہاں ٹیکنالوجی، انسان کی حقیقی فلاح کی خدمت گزار بن جاتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected]پر ای میل کردیجیے۔

Source: https://www.express.pk/story/2817998/the-problem-of-ontological-fragmentation-in-pharmaceutical-ai-and-its-solution-2817998/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.