وزیراعظم کی کمیٹی کو چیلنج نہیں کیا گیا تو مسئلہ بنے گا،سپریم کورٹ میں بھی مالکان کے حقوق کا دفاع کیا گیا،جج ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے 20 سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان کو انٹرا کورٹ اپیل میں فوری ریلیف نہ مل سکا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر نے فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔
اپیل کنندگان نے تھرڈ پارٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے فیصلے کے پیراگراف 30 تک چیلنج کیا۔ اپیل کنندگان کی جانب سے تیمور اسلم اور علی رضا ایڈووکیٹ جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران وکیل سی ڈی اے کاشف علی ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ لیز منسوخی سے متعلق ہائی کورٹ کا واضح آرڈر موجود ہے اور قانون میں درج ہے کہ لیز منسوخی کے بعد بلڈنگ سی ڈی اے کی ملکیت ہے۔
اس پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو پھر وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی غیر قانونی ہے؟ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی کے خلاف کوئی درخواست کیوں نہیں دی؟ وکیل سی ڈی اے نے جواب دیا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے، اس بارے میں اٹارنی جنرل آفس ہی بتا سکتا ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ اگر وزیراعظم کی کمیٹی کو چیلنج نہیں کیا گیا تو یہ مسئلہ بنے گا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی مالکان کے حقوق کا دفاع کیا گیا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اپارٹمنٹ مالکان کو اپارٹمنٹ خالی کرنے کے لیے کوئی نوٹس دیا گیا؟ جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ جب لیز قانوناً موجود تھی تب یہ وہاں رہ رہے تھے، اگر اب کوئی رہنے جائے گا تو وہ معاملہ الگ ہوگا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بی این پی کے حوالے سے اب کوئی معاملہ نہیں، متاثرین کے حوالے سے معاملہ زیر غور ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے کے پاس اپارٹمنٹ مالکان کا کوئی اسٹیٹس نہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اپارٹمنٹ کے رہائشیوں پر مشتمل کوئی کمیٹی بنائی گئی تھی؟ جس پر وکیل سی ڈی اے نے جواب دیا کہ کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔
اپیل کنندگان کے وکیل تیمور اسلم نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس بھیجوائی جاتی ہے اور دروازے توڑے جاتے ہیں، اس لیے اسٹے آرڈر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب کیا پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر کروائی جائے؟
جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ بلڈنگ کھڑی ہے، کہیں نہیں جا رہی، ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں۔ وکیل سی ڈی اے کاشف علی ملک نے کہا کہ سی ڈی اے بورڈ اس معاملے پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
وکیل سی ڈی اے نے مزید کہا کہ اگر تھرڈ پارٹی کو ریلیف ملتا ہے تو اس کا براہ راست فائدہ بی این پی کو ہوگا۔
بعد ازاں عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایات لے کر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.